Brailvi Books

فضائلِ دعا
287 - 322
    جواب: مشائخ عظام واولیائے کرام کبھی مفضول کو اختیار فرماتے ہیں، ان کے تمام اعمال وافعال وانواع احوال میں اَغراض عالیہ ہیں۔ بزرگوں نے وقتِ اِباحتِ شرعیہ سوال میں تین فائدے تجویز کئے ہیں، بنظر ان فوائد کے کبھی سوال کیا اور اپنے مریدوں کو اس کا اذن دیا ہے۔

    پہلا فائدہ: ریاضتِ نفس۔

     خواجہ شقیق بلخی کے ایک مرید خواجہ بایزید کے پاس آئے، آپ نے ان کے پیر کا حال دریافت فرمایا: عرض کی: خلق سے فارغ اور خدا پر متوکل ہو کر بیٹھ گئے ہیں، فرمایا:میری طرف سے شقیق سے کہنا دو۲ روٹیوں کے واسطے خدا کو نہ آزماؤ، نامہ توکُّل کا طے کر کے بھوک کے وقت بھیک مانگ لیا کرو، کہیں اس فعل کی شامت سے وہ ملک زمین میں نہ دھنس جائے۔(1)

    قال الرضاء: اللہ عزوجل پر توکُّل فرضِ عین ہے:
    قال اللہ تعالٰی:
(وَعَلَی اللہِ فَتَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۲۳﴾)
    ''اللہ ہی پر توکل کرو اگر مسلمان ہو۔''
 (پ۶، المائدۃ: ۲۳)
    اور فرماتا ہے:
  اِنۡ کُنۡتُمْ اٰمَنۡتُمۡ بِاللہِ فَعَلَیۡہِ تَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّسْلِمِیۡنَ )
    ''اگر تم خدا پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو۔''
 (پ۱۱، یونس: ۸۴)
    خصوصاً تَصَوُّف کہ
اِنْقِطَاع عَنِ الْغَیْرِ
 (یعنی:غیرسے لاتعلق ہو جانے)بلکہ فَنَا عَنِ الْغَیْر(یعنی: دوسروں کی خبر ہی نہ ہونے)بلکہ نَفیِ مُطْلَق غَیرہے (یہاں تک کہ اپنی اورغیرکی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''کشف المحجوب''، باب آدابہم في السؤال وترکہ، ص۴۰۵.
Flag Counter