| فضائلِ دعا |
بیسویں شرط: اگر واقعی سید یا شیخ، علوی یا عباسی غرض ہاشمی ہے تو مال زکوٰۃ لینے کے لیے اپنا ہاشمی ہونا نہ چھپائے کہ دینے والے نے انجانی میں دے دیا تو اسے تو لینا حلال نہ ہوگا اور اگر چھپانے کے لیے اپنی دوسری قوم ظاہر کی تو اسی (مذکورہ بالا)وعید ِشدیدکا مَورِد (مصداق)ہے ،
والعیاذ باللہ تعالیٰ۔)o
سوال: سابق مذکور ہوا کہ ترک سوا ل بہر حال اولیٰ ہے (یعنی بہتر ہے)حالانکہ بعض اکابر دین ومشائخ طریقت نے سوال کیا ہے، حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری اپنے ''مکتوبات''میں لکھتے ہیں: ''شیخ ابو سعید خراز فاقے کے وقت لوگوں سے سوال کرتے ہیں ۔اور خواجہ ابو حفص حداد مغرب وعشاء کے بیچ میں بقدر ضرورت ایک دو دروازے سے مانگ لیتے۔
خواجہ سفیان ثوری بھی سفر میں سوال کرتے اور خواجہ ابراہیم ادھم جبکہ جامع بصرہ میں معتکف تھے تین دن بعد افطار فرماتے ، اُس روز سوال کرتے۔''(1)قال الرضاء:
ان حضرات
عُلِیّہ قُدِّسَتْ أَسْرَارُھُمْ
کے یہ احوال علامہ مناوی نے بھی ''تیسیر شرح جامع صغیر''میں زیر حدیث:
((من سأل من غیر فقر فإنَّما یسأل الجمر))(2)
ذکر کئے اور حضرت ابو سعید خراز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت کہا: ہنگامِ فاقہ ہاتھ پھیلا کر
''ثم شيء للہ''
فرماتے۔(3))o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''قوت القلوب''، کتاب حکم المسافر والمقاصد في الأسفار، ج۲، ص۳۹۹. و''البریقۃ المحمودیۃ''، الثامن والعشرون حبّ المال للحرام، ج۴، ص۵۷. (شاملہ) 2جس نے بغیر فقر کے مانگا تو اس نے انگارہ مانگا۔ 3 ''التیسیر''، حرف المیم، ج۲، ص۸۱۶.(شاملہ)