Brailvi Books

فضائلِ دعا
285 - 322
اور آدمیوں، سب کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل''۔(1) 

    اور بعض سُفَہائے بے عقل جن کا باپ شیخ یا اور قوم سے ہے، صرف ماں کے سیدانی ہونے پر سید بن بیٹھتے ہیں اور اس بناء پر اپنے آپ کو سیّد کہتے کہلاتے ہیں یہ بھی محض جہالت ومعصیت اور وہی دوسرے باپ کو اپنا باپ بنانا ہے۔ شرع مطہر میں نسب باپ سے لیا جاتا ہے نہ(کہ)ماں سے۔
قال اللہ تعالٰی:
(وَعَلَی الْمَوْلُوۡدِ لَہٗ ) (2)۔
    امام خیر الدین رملی نے ''فتاویٰ خیریہ'' پھر علامہ شامی نے ''ردّ المحتار'' اور دیگر علماء نے اپنے اَسفار میں تصریح فرمائی کہ جس کی ماں سیدانی ہو اگرچہ اس وجہ سے وہ ایک فضیلت رکھتا ہے مگر زنہار (ہرگز)سید نہ ہو جائے گا۔(3)

    علامہ سیدی عبدالغنی نابلسی
قُدِّسَ سِرُّہُ الْقُدْسِيُّ
نے ''حدیقہ ندیہ''میں ارشاد فرمایا کہ ایسا شخص اگر اپنے آپ کو سید کہے تو اسی وعید میں داخل ہے کہ اس پر خدا وملائکہ وناس کی لعنت اور اس کی عبادتیں مردود اور اَکارت۔(4)
والعِیاذ باللہ ربّ العالمین۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''صحیح مسلم''، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ... إلخ، الحدیث: ۱۳۷۰، ص۷۱۲.

2 ترجمہ کنزالایمان :''اورجس کا بچہ ہے ۔'' (پ۲، البقرۃ: ۲۳۳)

اس آیت کریمہ کے تحت صدر الافاضل مولانانعیم الدین مرادآبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی ''خزائن العرفان '' میں ارشاد فرماتے ہیں:''یعنی والد، اس اندازِ بیان سے معلوم ہوا کہ نسب باپ کی طرف رجوع کرتاہے ۔ ''

3 ''ردّ المحتار''، کتاب النکاح، باب الکفاء ۃ، ج۴، ص۱۹۸.

4 ''الحدیقۃ الندیۃ''، النوع الرابع من الأنواع الستین الکذب، ج۲، ص۲۰۹-۲۱۰.
Flag Counter