Brailvi Books

فضائلِ دعا
284 - 322
اس محظور (یعنی شریعت کی منع کردہ)کی اجازت ہو پھر اس کے لئے بھی صرف بحال حاجت ، بقدرِ حاجت اجازت ہوگی؛
لأنَّ ما کان بضرورۃ تقدّر بقدرھا
 (اس لئے کہ جو شئے کسی ضرورت کے تحت ثابت ہو وہ بقدر ضرورت ہی جائز رہتی ہے)نہ کہ بِلا حاجت یا خزانہ بھرنے کے لیے، پھر آگے مدار نیّت پر ہے، اللہ عزوجل کہ
 (عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ )(1)
ہے اس کی حالت جانتا ہے کہ اصل مقصود ہدایت ہے، نہ(کہ)جمع مال، جب توا س مجبوری کے فتوے سے نفع پا سکتا ہے ورنہ دانائے سِرّ واَخفےٰ(ہر پوشیدہ سے پوشیدہ کو جاننے والے رب عزوجل) کے حضور جھوٹا حیلہ نہ چلے گا اور دنیا خَر(بے وقوف )اور دین فروش ہی نام پائے گا، والعیاذباللہ تعالیٰ ۔

    اُنیسویں شرط: کسی جھوٹے حیلے سے دھوکا نہ دے۔ مثلاً:مسجد بنوانی ہے، مدرسے کو درکار ہے وغیرہ وغیرہ کہ اگر سرے سے بے اصل تھا تو جھوٹ ہوا اور اگر مسجد ومدرسہ واقعی تھے ان کے نام سے لے کر خود کھایا تو خیانت ہوئی اور ہر حال میں فریب بھی ہوا اور جو ملا مالِ حرام ہوا اور ایک سخت ناپاک تر دھوکا وہ ہے کہ بعض احمق جاہل خدا ناترس مالِ حرام حاصل کرنے کو
ع ''غلہ تا ارزاں شود امسال سید میشوم'' (2)
پر عمل کرتے ہیں، ایسے گناہ کبیرہ سے دور بھاگے۔

    صحیح حدیث شریف میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو نسب میں اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف اپنے کو نسبت کرے اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ترجمہ کنز الایمان: ''دلوں کی جانتا ہے۔''(پ۲۹، الملک: ۱۳)

2یعنی اس سال اگر غلہ سستا ہوجائے تو سردار ہوجائیں۔
Flag Counter