Brailvi Books

فضائلِ دعا
283 - 322
    ''خلاصہ'' و''تاتارخانیہ ''و''ہندیہ'' میں ہے:
الواعظ إذا سأل الناس شیأاً في مجلس لنفسہ لا یحلّ لہ ذلک؛ لأنّہ اکتساب الدنیا بالعلم۔(1)
    امام فقیہ ابواللیث نے اگر حال زمانہ دیکھ کر کہ سلطنتوں نے علماء کی کفالت چھوڑ دی، بیت المال میں ان کا حق کہ ہمیشہ اُن کے اور اُنکے مُتعلِّقین کے تمام مصارف کی کفایت کی جائے انہیں نہیں پہنچتا وہ کسبِ مَعاش میں مصروف ہوں تو عوام کو ہدایت کا دروازہ مسدود ہوتاہے اذان وامامت وتعلیم باُجرت پر فتوائے متاخرین کی طرح قول جمہور اورخود اپنے قول سابق سے رجوع فرما کر عالم کو اجازت دی کہ وعظ وپند کیلئے مُفَصَّلات(یعنی شہر کے اردگرد کے قصبات ودیہات)میں جائے اورنذورلے، تو وہ مجبوری کی اجازت بحالتِ حاجت ، خاص عالمِ دین کے لئے ہے جو اہل وعظ وتذکیر ہے ، نہ(کہ)جاہلوں یا ناقصوں کے واسطے کہ اِنہیں وعظ کہنا ہی کب جائز ہے(2) جوا س کی ضرورت کیلئے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 وعظ ونصیحت کرنے والا جب لوگوں سے مجلس میں اپنے لئے کچھ مانگے تو یہ اس کیلئے حلال نہیں اس لئے کہ یہ علم بیچ کر دنیا خریدنا ہے۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الکراھیۃ، الباب الرابع،ج۵، ص۳۱۹.

2 یعنی: امام ابوللیث سمرقندی نے جب یہ ملاحظہ فرمایا کہ حکومتوں نے علمائے کرام کی کفالت کرنا چھوڑدی ہے اور انھیں اور انکے متعلقین کو بیت المال سے جو انکا حق ملا کرتا تھا ملنا بند ہوگیا ہے ایسی صورت میں علماء اگر معاشی مصروفیات میں پڑ جائیں گے تو پھر عوام کی ہدایت اوروعظ ونصیحت کا دروازہ بند ہوجائے گا،اپنے سابقہ قول سے رجوع فرماتے ہوئے جمہورمتاخرین کے قول کو اختیارکرتے ہوئے علمائے کرام کو اذان واقامت، تعلیم قرآن وحدیث اور وعظ کیلئے اجرت اور نذرانے لینے کی اجازت مرحمت فرمائی توان علماء کوجو وعظ کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، یہ اجازت اصلاحِ امت کے مقدس جذبے کے پیش نظرضرورتاً دی گئی تھی ،جاہلوں اور شرعی احکامات سے بے بہرہ لوگوں کو تو وعظ کہنا ہی جائز نہیں تو اس پر اجرت و نذرانے لیناان کے لئے کیسے جائز ہوجائیگا!۔
Flag Counter