Brailvi Books

فضائلِ دعا
282 - 322
اوخویشتن گم است کِرا رَہبری کند(1)
    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
 ((من قال في القرآن بغیر علم فلیتبوء مقعدہ في النار))
    ''جو بے علم قرآن کے معنی میں کچھ کہے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔''
    رواہ الترمذي وصحّحہ عن ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنھما۔(2)
    دوسرے اُن کا وعظ سننا حرام:
 (سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ) (3)
تو سارے جلسے کا وبال ایسے واعظ کی گردن پر ہے
من غیر أن ینقص من أوزارھم شیأً
(بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کچھ کمی ہو)۔

    تیسرے وعظ وپند کو جمع مال یا رجوعِ خلق کا ذریعہ بنانا گمراہی مردود وسنّتِ نصاریٰ ویہود (یہودیوں اور عیسائیوں کا طریقہ)ہے۔ 

    ''در مختار'' میں ہے:
التذکیر علی المنابر للوعظ والاتعاظ سُنَّۃ الأنبیاء والمرسلین ولرأاسۃ ومال وقبول عامّۃ من ضلالۃ الیھود والنصاری۔(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی جو خود گمراہ ہو وہ کسی اور کی کیا راہنمائی کریگا۔

2اس حدیث کو ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھماسے روایت کرتے ہوئے صحیح قراردیاہے۔

''سنن الترمذي''،باب ماجاء في الذي یفسر القرآن برأیہ ،الحدیث ۲۹۵۹،ج۴،ص۴۳۹.

3ترجمہ کنزالایمان: ''جھوٹ خوب سنتے ہیں ۔''(پ۶، المائدۃ:۴۱)

4 منبروں پراس لئے وعظ کرنا تاکہ لوگوں کو نصیحت ہو اور اسکے اثر سے لوگ اپنی اصلاح کی کوشش کریں تو یہ انبیاء ومرسلین علیھم الصلاۃ والسلام کی سنت ہے اوراس کولوگوں پر اپنی بڑائی جتلانے اورحصول مال وشہرت کا ذریعہ بنانا یہودونصاریٰ کے گمراہ افعال میں سے ہے ۔ 

''الدرّ المختار''، کتاب الحظر والاباحۃ، ج۹، ص۶۹۵.
Flag Counter