امام حجۃ الاسلام (یعنی امام غزالی)فرماتے ہیں: ایک غلام وآقا حج کر کے پلٹے راہ میں نمک نہ رہا، نہ خرچ تھا کہ مول (خرید)لیتے۔ ایک منزل پر آقا نے کہا:بقَّال (کریانہ والے)سے تھوڑا نمک یہ کہہ کر لے آ کہ ہم حج سے آتے ہیں، وہ گیا اور کہا: میں حج سے آتا ہوں قدرے نمک دے، لے آیا۔ دوسری منزل میں آقا نے پھر بھیجا، اس بار یوں کہا کہ: میرا آقا حج سے آتا ہے تھوڑا نمک دے، لے آیا۔ تیسری منزل میں آقا نے پھر بھیجنا چاہا، غلام نے کہ حقیقۃً آقا بننے کے قابل تھا، جواب دیا: پرسوں نمک کے چند دانوں پر اپنا حج بیچا کل آپ کا بیچا، آج کس کا بیچ کر لاؤں۔
امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک شخص کے یہاں دعوت میں تشریف لے گئے، میزبان نے خادم سے کہا:ان برتنوں میں کھانا لاؤ جو میں دوبارہ کے حج میں لایا ہوں، امام نے فرمایا: ''مسکین تو نے ایک کلمہ میں اپنے دو حج ضائع کئے''جب مُجَرَّد(صرف)اِظہار پر یہ حال ہے تو اسے ذریعہ دنیا طلبی بنانا کس درجہ بدتر ہوگا۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
اور اسی میں داخل ہے وعظ کا پیشہ کہ آج کل نہ کم علم بلکہ بہت نرے جاہلوں نے کچھ الٹی سیدھی اردو دیکھ بھال کر، حافظہ کی قوت دماغ کی طاقت، زبان کی طلاقت کو شکارِ مَردَم کا حال (زبان کی تیزی سے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کا ذریعہ) بنایا ہے۔ عقائد سے غافل، مسائل سے جاہل اور وعظ گوئی کے لئے آندھی، ہر جامع، ہر مجمع، ہر مجلس، ہر میلے میں غَلَط حدیثیں، جھوٹی روایتیں، اُلٹے مسئلے بیان کرنے کو کھڑے ہو جائیں گے اور طرح طرح کے حیلوں سے جو مل سکا کمائیں گے۔
اَوّل تو اُنہیں وعظ کہنا حرامِ قطعی۔