Brailvi Books

فضائلِ دعا
280 - 322
    سترہویں شرط: مال حاصل کرنے کے لیے جس قدر صلاح اپنے میں ہے، اس سے زیادہ ظاہر نہ کرے۔ خواہ وہ اظہار زبانِ قال سے ہویا زبان حال سے ہو، کہ ایک تو زَوْر(زبردستی) ہوگا۔

    حدیث شریف میں ہے: ''جو لوگوں کو اس سے زیادہ خوفِ خدا دکھائے جتنا اس کے پاس ہے منافق ہے۔''(1)

    دوسرے دھوکا دینا۔ حدیث شریف میں ہے: ''ھمارے گروہ سے نہیں جو ہمیں فریب دے۔''(2)

    تیسرے وہ مال کہ اس کے عوض لے گا، ناجائز ہوگا۔
کما في ''الطریقۃ المحمدیۃ''
کہ دینے والا اگر ایسا نہ جانتا نہ دیتا یا اتنا نہ دیتا۔

    اٹھارہویں شرط: کسی سچے عملِ دینی کے ذریعے سے بھی دنیا نہ مانگے کہ معاذ اللہ دین فروشی ہے۔ جیسے بعض فقراء کہ حج کر آتے ہیں جگہ جگہ اپنا حج بیچتے پھرتے ہیں، پھر کبھی بک نہیں چکتا (یعنی: ہمیشہ اسی حج کو کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں)۔ 

    حدیث شریف میں آیا: ''جو آخرت کے عمل سے دنیا طلب کرے اس کا چہرہ مسنح کر دیا جائے اور اس کا ذکر مٹا دیا جائے اور اس کا نام دوزخیوں میں لکھا جائے۔''(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''الجامع الصغیر''، الحدیث: ۸۳۸۳، ص۵۱۱.

2 ''صحیح مسلم''، کتاب الایمان، باب قول النبي: ((من غشنا فلیس منا))، الحدیث: ۱۶۴، ص۶۵.

3 ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۲۱۲۸، ج۲، ص۲۶۸.
Flag Counter