| فضائلِ دعا |
سولہویں شرط: سوال میں زیادہ تَمَلُّق(خوشامد)وچاپلوسی نہ کرے کہ شانِ اِسلام کے خلاف ہے۔ حدیث شریف میں آیا: ''مسلمان خوشامدی نہیں ہوتا''(2)اور جھوٹی جھوٹی تعریفیں اس سے بھی بدتر کہ ایک تو تَمَلُّق، دوسرے کذب، تیسرے اس شخص کا نقصان کہ منہ پر تعریف کرنے کو حدیث میں گردن کاٹنا فرمایا اور ارشاد ہوا: ''مداحوں کے منہ میں خاک جھونک دو''(3)خصوصاً اگر ممدوح فاسق ہو کہ حدیث میں فرمایا:''جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے، رَب تَبَارَکَ وَتَعَالٰی غضب فرماتا ہے اور عَرْشُ الرَّحْمٰن ہِل جاتا ہے۔''(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 اور اسی قول کو ''در مختار'' کے کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃ میں اختیار کیا ہے اور اسی کی کِتَابُ الصَّلَاۃ میں مسجد کے سائل کومطلقاً دینے کی ممانعت پر جزم فرمایااورمذکورہ قول کو لفظِ ''قِیْلَ'' سے تعبیر کیا یعنی اس کے ضعف کی طرف اشارہ فرمایا۔ میں کہتا ہوں: اِن دونوں اقوال میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اگر وہ شخص پیشہ ور فقیر ہے تو اسے دینا، چاہے مسجدمیں ہو یا علاوہ مسجد، بہر صورت منع ہے اور اگر وہ شخص خستہ حال مسافر ہے کہ وہاں اس کا کوئی جاننے والا نہیں، اور نہ وہ نمازیوں کو پھلانگتا ہے نہ ہی بار بار سوال کرتا ہے، تو اسے دینا جائز ہے۔ 2 ''شعب الإیمان''، باب في حفظ اللسان، الحدیث: ۴۸۶۳، ج۴، ص ۲۲۴. و''الجامع الصغیر''، الحدیث: ۷۶۷۱، ص۴۶۹. 3 ''صحیح مسلم''، کتاب الزھد والرقائق، باب النھي عن المدح... إلخ، الحدیث: ۳۰۰۲، ص۱۶۰۰. 4 ''شعب الأیمان''، الحدیث: ۴۸۸۶، ج۴، ص۲۳۰.