Brailvi Books

فضائلِ دعا
277 - 322
    اُمّ المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سخاوت اس درجہ تھی کہ ان کے بھانجے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنھما نے اپنے زمانہ خلافت میں ان کے تصرفات محجور کر دیئے(یعنی روک دیئے) تھے(1)، ہزارہا روپے ایک جلسے میں محتاجوں کو تقسیم فرما دیتیں۔

    ایک بار امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لاکھ روپے نذر بھیجے، اُمّ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کنیز کو حکم دیا ہزار فلاں کو دے آؤ، سو فلاں کو، یہاں تک کہ ایک پیسہ نہ رکھا اور خود حضرت اُم المؤمنین کا روزہ تھا، کنیز نے عرض کی:حضور کا روزہ ہے اور گھر میں افطار کو بھی کچھ نہیں، فرمایا: پہلے سے کہتی توکچھ رکھ لیا جاتا۔(2)

    اِن اُمّ المؤمنین نے ایک بار سائل کو ایک دانہ انگور کا دیا، دیکھنے والے نے تعجب کیا، فرمایا:
کم تری فیھا من مثاقیل ذرۃ؟
''اس سے کتنے ذرے نکل سکیں گے؟'' اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
( فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ  )
''جو ایک ذرہ برابر بھلائی کریگا اس کا اجر دیکھے گا۔''
 (پ۳۰، الزلزال: ۷)(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 انظر ''صحیح البخاري''، کتاب المناقب، باب مناقب قریش، الحدیث: ۳۵۰۵، ج۲، ص۴۷۵، وکتاب الأدب، باب الہجرۃ، الحدیث: ۶۰۷۳-۶۰۷۵، ج۴، ص۱۱۹.

یعنی: اُم ّالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مالی تصرف کے اختیارات لے لئے تھے کہ حاکمِ اسلام کو اس بات کا اختیار ہے۔ 

2 ''إحیاء علوم الدین''، کتاب الفقر والزھد، ج۴، ص۲۴۵.

3 ''شعب الإیمان''، باب الزکاۃ، فصل في الاختیار في صدقۃ التطوع، الحدیث: ۳۴۶۶، ج۳، ص۲۵۴.
Flag Counter