( لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىہَا ؕ سَیَجْعَلُ اللہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا)(1)
نیز حدیث میں اس طرف بھی اشارہ ممکن کہ صدقہ دینے میں تھوڑی چیز کو بھی حقیر نہ جانو اگرچہ زیادہ کی استطاعت بھی ہو،ہاتھ پہنچتا ہے مگر شیطان روکتا ہے، نفس آڑے آتا ہے ایک شیطان کیا ستر۷۰ شیطان صدقے سے باز رکھتے ہیں۔
حدیث شریف میں ارشاد ہوا: ''صدقہ ستر شیطانوں کے جبڑے چیر کر نکالتا ہے۔'' (2) تو ایسی حالت میں تھوڑا ہی دے اور اسے حقیر جان کر بالکل دَست کَش(لا تعلق) نہ ہو کہ آخر محتاج کے بکار آمد ہوگا اور بخل کی جڑ دل پر جمنے میں کچھ تو کمی آئے گی۔
ما لا یُدْرَک کلُّہ لا یُتْرَک کلُّہ
(بالکل کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے) اور یہاں بھی وہ آیہ کریمہ وارد نہیں کہ اس میں:
(لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ)
لَا تَیَمَّمُوا الْقَلِیْلَ
(یعنی:خاص قلیل کا ارادہ نہ کرو)خبیث وقلیل میں زمین وآسمان کا فرق ہے، پاؤ بھر کَھرے گیہوں قلیل ہیں خبیث نہیں اور د۱۰س مَن گُھنے ہوئے(یعنی کیڑا لگے ہوئے)کہ گَل کر آٹا ہو گئے خبیث ہیں نہ(کہ)قلیل۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ترجمہ کنز الایمان: ''اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے، قریب ہے کہ اللہ دشواری کے بعد آسانی فرما دے گا۔ ''(پ۲۸، الطلاق: ۷)
2 ''مجمع الزوائد''، کتاب الزکاۃ، باب ارغام الشیطان بالصدقۃ، الحدیث: ۴۶۰۱، ج۳، ص۲۸۲.