(کثیر بھی اللہ کے حضور قلیل ہے)حدیث صحیحین سے ثابت کہ صدقہ کو حقیر نہ جانو اگرچہ بکری کا جلا ہو اکُھر ہو۔(2)
قال الرضاء: اس کے مُخاطَب صدقہ دینے والے بھی ہوسکتے ہیں یعنی: اگر ایسی ہی چیز کی استطاعت ہے تو یہی دو اور اِسے حقیر نہ جانو کہ آخر امتثالِ امر ہے (یعنی:شرعی حکم کی بجا آواری ہے)اور محتاج کے کچھ تو کام آئے گی وہاں اِنہیں دو باتوں پر نظر ہے نہ کہ تمہارے قلیل وکثیر پر، کہ یوں تو تمام متاعِ دنیا شرق سے غرب تک کے سارے خزینے، دفینے ہر قلیل سے قلیل تر، ہر ذلیل سے ذلیل تر ہیں اور جب اس وقت ناقص ہی چیز پر ہاتھ پہنچتا ہے تو اب وہ آیہ کریمہ وارد نہ ہو گی جو ہم نے زیرِ شرط ۱۲ تلاوت کی کہ اس میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 جب تک کسی معین شئے کا حرام ہونا ہمیں معلوم نہ ہو اُسے لے سکتے ہیں یہ فقہ حنفی کو تحریری صورت میں پیش کرنے والے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ِامجد، امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے اوراس مسئلے کی تمام صورتیں ہم نے بہت تفصیل کے ساتھ اپنے بابرکت مجموعہ فتاوی ''العطایا النبویۃ في الفتاوی الرضویۃ'' میں ذکر کر دی ہیں۔ (انظرللتفصیل '' الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۱، ص ۶۴۱)
2 ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب الحثّ علی الصدقۃ... إلخ، الحدیث: ۱۰۳۰، ص۵۱۴.