| فضائلِ دعا |
یہ زیادہ کے لیے اس واسطے اصرار کرتا ہے کہ زیادہ کام آئے گا اور وہاں اس سے برکت اٹھالی گئی کہ اس تھوڑے کی قدر بھی بکار آمد نہ ہوگا، اگر قناعت کرتا، اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ خیر وبرکت عطا فرماتا ہے۔
بارہویں شرط: لازم ہے کہ عیب صدقے کا پوشیدہ رکھے۔
قال الرضاء: جیسے دینے والے کو چاہیے کہ ناقص چیز صدقے میں نہ دے کہ اللہ عزوجل غنی ہے، صدقہ پہلے اس غنی مطلق جَلَّ وَعَلَا کے دستِ قدرت میں پہنچتا اس کے بعد فقیر کے ہاتھ میں جاتا ہے۔ اب آدمی دیکھے کہ غنی کی سرکار میں کیا پیش کش کرتا ہے۔
وہ فرماتا ہے:(لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ۬ؕ)
''ہر گز نیکی نہ پاؤ گے جب تک اپنی پیاری چیزوں میں سے ھماری راہ میں خرچ نہ کرو۔''
(پ۴، اٰل عمران: ۹۲)
اور فرماتا ہے:
(وَلَسْتُمۡ بِاٰخِذِیۡہِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغْمِضُوۡا فِیۡہِ ؕ)
''تمہیں ایسی چیز دی جائے تو نہ لوگے مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ۔''
(پ۳، البقرۃ: ۲۶۷)
ایسے ہی صدقے لینے والے پر لازم ہے کہ ناقص پر ناراض نہ ہو اور اس کی مذمت وشکایت نہ کرے کہ آخر اس کی طرف سے نعمت ہے اور نعمت کا مُعَاوَضہ شکر ہے نہ(کہ)شکایت، اس کا کوئی قرض نہ آتا تھا کہ شکایت کرتا ہے۔ )o
تیرہویں شرط: جو شخص مالِ ظلم یا مالِ رِبا (کسی سے چھینا ہوا، یا سُودی مال)دے ہر گز نہ لے کہ خبیث سے سوا خُبث (برائی)کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔
قال الرضاء: اگر معلوم ہو کہ جو کچھ یہ دیتا ہے عین حرام ہے تو ہر طرح لینا حرام