| فضائلِ دعا |
دسویں شرط: لِوَجْہِ اللہ سوال نہ کرے یعنی یہ کلمہ کہ خدا کے واسطے مجھے کچھ دو، نہ کہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ''جو شخص لِوَجْہِ اللہ سوال کرے، ملعون ہے۔''(1)
ایک بزرگ کوفے کے بازار میں چڑیا ہاتھ پر بٹھائے کہتے تھے:اس چڑیا کے لیے مجھے کچھ دو،کسی نے کہا: یہ کیا کہتے ہو؟ فرمایا:دنیائے دُوں (یعنی:بے قیمت وحقیر دنیا)کے لیے خدا کا واسطہ نہیں لاسکتا اس کا شفیع (سفارشی)بھی حقیر چاہیے۔(2)
سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:((لا یسأل لوجہ اللہ إلا الجنۃ))۔
''لوجہ اللہ کہہ کر جنت کے سوا کوئی چیز نہ مانگی جائے۔''(3)
گیارہویں شرط: جس قدر دیا جائے بطیبِ خاطر (یعنی:خوش دلی کے ساتھ)قبول کرے زیادہ پر اِصرار سے نہایت باز رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مال، دینے والے کی ناگواری کے ساتھ لیا جاتا ہے اس میں برکت نہیں ہوتی۔''(4)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''مجمع الزوائد''، کتاب الزکاۃ، باب فیمن سأل بوجہ اللہ عزوجل، الحدیث: ۴۵۶۸-۴۵۶۹، ج۳، ص۲۷۲. 2 ''کشف المحجوب'' (فارسی)، باب آدابھم في السؤال وترکہ ،ص ۴۰۷. 3 ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب کراھیۃ المسألۃ بوجہ اللہ تعالی ، الحدیث: ۱۶۷۱، ج۲، ص۱۷۸. 4 ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب النھي عن المسألۃ، الحدیث: ۱۰۳۷-۱۰۳۸، ص ۵۱۶.