Brailvi Books

فضائلِ دعا
272 - 322
کرے کہ واسطہ وصولِ نعمت ہے اور اس کے حق میں دعا کرے۔(1) 

    حدیث شریف میں ہے:''جو بھلائی کرے اسکوبدلا دو،، نہ ہوسکے تو اس کیلئے دعاکرو۔''(2)

    مگر صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ اگر فقیر اس کے سامنے اسے دعا دے تو وہی دعا فقیرکو دیدے تاکہ دعا کا عوض دعا ہو جاوے اور صدقہ بے عوض رہے اس کے عوض ثوابِ آخرت ملے۔
    آٹھویں شرط: کسی سے بار بار سوال نہ کرے کہ اس حرکت سے وہ تنگ ہوگا وہ اس کو حریص سمجھے گا۔

    نویں شرط: اگر دینے والا تنگ ہو کر یا لوگوں سے شرما کر یا مالِ مُشْتَبَہ یا حرام اس کو دے، قبول نہ کرے کہ اگر خدا کے واسطے ایسے مال سے اجتناب کریگا، خدا اپنے فضل وکرم سے اسے بہتر عنایت فرمائے گا:
 (وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ)(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی: پروردگارِ عالم عزوجل کا شکر بجالائے کہ درحقیقت سبھی نعمتیں ملتی تو اللہ رب العزت ہی کی طرف سے ہیں لیکن چونکہ یہ شخص اس نعمتِ خداوندی کے پہنچنے کا ذریعہ بنا اس لئے اسکا بھی شکریہ ادا کرے اور اسکے حق میں دعا بھی کرے ۔

2 ''السنن الکبری''، کتاب الزکاۃ، باب عطیۃ من سأل باللہ عزوجل، الحدیث: ۷۸۹۰، ج۴، ص۳۳۴.

3 ترجمہ کنز الایمان: ''اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کیلئے نجات کی راہ نکال دے گا اوراُسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔'' (پ۲۸، الطلاق: ۲-۳)
Flag Counter