Brailvi Books

فضائلِ دعا
271 - 322
سوال حرام، نفل کے لئے حرام اختیار کرنا کس نے مانا!)o 

    چھٹی شرط: اسے تنعُّم وتَجَمُّلِ نفس وعیال میں صرف نہ کرے بلکہ وسیلہ عبادت ومباح میں خرچ کرے۔(1)

    قال الرضاء:  مال غَادی ورَائِح ہے (یعنی:مال، بادل وہوا کی مانند آنی جانی شئے ہے)صبح آتا اور شام جاتا شام جاتا اور صبح آتا ہے۔ نانِ شبینہ کے محتاج (مفلس اور لاچار لوگ)آنکھوں دیکھتے دیکھتے صاحبانِ تخت وتاج ہوگئے اب اگر کسی نے ضرورت کے لئے سوال سے مال حاصل کیا ابھی خرچ نہ ہوا تھا کہ مال حلال کسی دوسری وجہ سے مل گیاتو اسے اگرچہ اس مالِ سوال کا واپس دینا شرعا ضرور نہیں کہ اس وقت محتاج ہی تھا مگر اولیٰ یہی ہے کہ واپس کر دے تاکہ ذلتِ سوال کی تلافی اور شکر واظہارِ نعمتِ الٰہی ہو پھر بھی اگر صَرف کرے تو اسی حاجت وضرورت ہی کے امور میں کہ جس کے لیے مانگا تھا اس کے خلاف نہ ہو۔
    ھذا ما ظھر في شرح ھذا الکلام الشریف، فافھم، واللہ تعالٰی أعلم)o (2)
    ساتویں شرط: مُنعِم حقیقی کا شکر بجا لائے اور جس نے دیا اس کا بھی شکر ادا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی جو مال مانگ کر حاصل ہوا اُسے اپنے اوراپنے اہل وعیال کے عیش وعشرت اوربناؤ سنگھار میں خرچ نہ کرے بلکہ اسے عبادت اورمباح کاموں کا ذریعہ بنائے ۔

2 یہ کلام ہے جو مُصَنِّف علیہ الرحمۃ کے اُس کلام کی تشریح میں مجھ پر ظاہر ہوا، پس اسے سمجھو اور سب سے بہتر علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
Flag Counter