| فضائلِ دعا |
فإنّ ما لا یحصل الواجب إلّا بہ یکون واجباً کمثلہ في ''ردّ المحتار'' عن ''الذخیرۃ'': إن قدر علی الکسب تفرض النفقۃ علیہ فیکتسب وینفق علیھم وإن عجز؛ لکونہ زمناً أومقعداً یتکفف الناس وینفق علیھم کذا في نَفَقات الخَصَّاف۔(1)
غرض اصل کُلِّی وہی ہے کہ جو حاجت وضرورت واقعی وشرعی ہو اور طریقہ تحصیل سِوا سوال کے دوسرا نہ ہو (مانگنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو تو)اس کے لیے بقدرِ حاجت، تاوقتِ حاجت سوال جائز ہے ورنہ حرام۔
آج کل اکثر لوگ بیٹی کے بیاہ کے لیے بھیک مانگتے ہیں اور اس سے مقصود رسومِ مُرَوَّجہ ہند کا پورا کرنا ہوتا ہے، حالانکہ وہ رسمیں اصلاً حاجتِ شرعیہ نہیں تو ان کے لئے سوال حلال نہیں ہو سکتا، ہاں مسلمانوں کو خود مناسب ہے کہ حاجت مند بیٹی والے کی اِعانت کریں۔ حدیث میں اس کی مدد کرنے ، اسے قرض دینے کی طرف ارشاد ہوا ہے۔
بعضے بھیک مانگتے ہیں کہ حج کو جائیں گے، یہ بھی حرام اورانہیں دینا بھی حرام،ما حرم أخذہ حرم إعطاءہ
(جس شئے کا لینا حرام ، اس کا دینا بھی حرام )فقیر کو حج، نفل ہے اور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 جو شخص واجب کے حصول پر سوال کئے بغیر قدرت نہیں رکھتا اس پر سوال کرنا واجب ہے، اسی کی مثل ''ردالمحتار'' میں ''ذخیرہ'' سے منقول کہ اگرکماکر ان کا نفقہ جو اس شخص پر واجب ہے، پورا کرسکتاہے تو کمائی کرکے ان کا نفقہ ادا کرے، اوراگرلنجا یا اپاہج ہونے کے سبب نہیں کما سکتا تو لوگوں سے مانگ کر ان کا خرچہ پورا کرے جن کا نفقہ اس پر واجب ہے اسی طرح خصاف کے باب النفقہ میں بھی مذکور ہے۔ ''ردّ المحتار''، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج۵، ص۳۴۶.