Brailvi Books

فضائلِ دعا
269 - 322
    تیسری شرط: پارسائی کو حیلہ دنیا طلبی وسوال کا نہ کرے؛ کہ دین کو دنیا سے بیچنا کمال نادانی ہے۔(1)

    چوتھی شرط: جماعت میں ایک شخص کو متعین کر کے سوال نہ کرے کہ اگر نہ دے شرمندہ ہو اور جو دے اس کے جِی پر گراں گزرے مگر صاحبِ زکوٰۃ سے مستحق کے واسطے اور جو خود مستحق ہو تو اپنے لئے سوال بتعیّن مضائقہ نہیں رکھتا، اگرچہ اس کو ناگوار ہو اور اسی طرح تعیّنِ سوال کہ مجھے ایک روپیہ یا دو روپے دے، نہ چاہیے۔ 

    پانچویں شرط: قدرِ حاجت سے زیادہ نہ مانگے۔ 

    امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:اصل حاجتیں تین ہیں: روٹی، کپڑا، گھر، اور حدیث شریف میں ہے کہ ''آدمی کو تین چیزوں کے سوا دنیا میں کچھ حق نہیں، چند لقمے کہ اس کی پیٹھ کو سیدھا کریں اور ایک ٹکڑا کپڑا کہ ستر چھپائے اور چھوٹا گھر جس میں جھک کر داخل ہوسکے''اسی طرح جو چیزیں گھر کیلئے لا بُدَّ(یعنی ضروری) ہیں وہ بھی حاجت میں داخل ہیں۔(2)

قال الرضاء: یہ حاجاتِ ضروریہ عامہ ہیں جن کی طرف سب کو احتیاج ہے اور اَہل وعیال والے کو ان کے نفقہ کی بھی حاجت ہے، اگر بی بی یا غیر مالدار بچوں یا حاجت مند ماں باپ اور ان کے مثل ان کے لئے جن کا نفقہ شرعاً اس پر واجب ہے قدرِ کفایت نہ پاس ہے، نہ وقتِ حاجت تک کسب سے حاصل کر سکتا ہے تو ان کے لئے بھی سوال جائز بلکہ واجب ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی اپنی پرہیزگاری کے ذریعے سوال نہ کرے کہ دین کو دنیا کے بدلے بیچنا بہت بیوقوفی ہے۔

2 ''کیمیائے سعادت''، اصل چھارم درفقر وزھد، ج۲، ص۸۴۵.
Flag Counter