| فضائلِ دعا |
اصل یہ ہے کہ سوال بقدرِ حاجت درست ہے اور حاجت باختلاف اشخاص واوقات واحوال واَمصار مختلف۔
پس غیر خدا سے سوال فِيْ نَفْسِہٖ قَبِیْح ہے اور اس کی اجازت بوجہ ضرورت،الضرورات تُبِیح المحظورات
(یعنی:ضرورتیں ممنوعہ اشیاء کو مباح یعنی جائز کر دیتی ہیں)جو شخص بقدرِ سدِّ رَمق کے قُوت یا بقدرِ سترِ عورت کے لباس یا سونے بیٹھنے کے لائق گھر نہیں رکھتا اور کسب ۱؎ سے بھی نہیں حاصل کر سکتا اسے کئی شرط سے سوال کرنا درست ہے۔
پہلی شرط: خدائے تعالیٰ کی شکایت نہ کرے اور ناشکری کا کلمہ زبان پر نہ لائے۔
دوسری شرط: حتی الوُسع (جہاں تک ممکن ہو)اپنے عزیز اور دوست اور سخی عالی ہمت سے مانگے کہ اس پر سوال گراں نہ گزرے گا اور وہ اسے بنظرِ حقارت نہ دیکھے گا۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ اگر قدرت کسب رکھتا ہو تو کسب کرے اور سوال سے باز رہے مگر طالبِ علم، اگر کسبِ معاش طلب علم میں خلل ڈالے بخلاف عابد کہ وہ کسب کرے اگرچہ عبادت میں حرج ہو۔
قال الرضاء: وجہ ِفرق ظاہرکہ کسبِ حلال خود افضل عبادات سے ہے تو اس میں دونوں مقصود حاصل بخلاف علم کہ اس سے جو مطلوب ہے کسب سے حاصل نہیں ہوسکتا، مع ہذا طلبِ علم فرضِ عین ہے یا فرضِ کفایہ اور عباداتِ نافلہ کیلئے تفرُّغ (فراغت) اصلاً فرض نہیں۔)o
اسی طرح اس دینی کتاب کو جس کی حاجت رکھتا ہے فروخت کرنا ضرور نہیں، ہاں جس کتاب کی حاجت نہ ہو اور جانماز اور اسی قسم کا اسباب کہ حاجت سے زیادہ ہو بیچ ڈالے اور سوال نہ کرے۔ ۱۲ منہ قدس سرہ .