Brailvi Books

فضائلِ دعا
267 - 322
حدیث شریف میں ہے: ''جس کے پاس بقدر کفایت ہو اور وہ سوال کرے قیامت کے دن اس کے منہ کا گوشت گَل کر گر پڑے گا کہ ہڈی کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا۔'' (1)

    دوسری حدیث شریف میں آیا ہے کہ'' وہ جو کچھ لیتا ہے دوزخ کی آگ ہے اب چاہے بہت لے یا تھوڑی''، کسی نے عرض کی: یا رسول اللہ! کس قدر رکھتا ہو تو سوال نہ کرے؟ فرمایا: ''صبح وشام کا کھانا۔'' (2)

     اور ایک روایت میں ''پچاس درہم'' کہ ایک آدمی کو سال بھر کفایت کرتے ہیں۔(3) 

    اور وجہِ تطبیق یہ ہے کہ موسم صدقات جہاں سال بھر میں ایک بار آتا ہے، اگر ان دنوں بقدرِ سدِّرَمَق (یعنی:اتنا کھانا جس سے زندگی قائم رہے)ایک سال کا قُوت (یعنی:خوراک)نہیں رکھتا یا سال بھر کے لائق کپڑا موجود نہیں اور اس عرصے میں نہ ملنے کی اُمید، نہ کسب پر قدرت، تو اس کو سوال درست ہے اور جو ہر روز سوال کرتا ہے اسے دوسرے دن کے لے بھی سوال کرنا جائز نہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''سنن ابن ماجہ''، کتاب الزکاۃ، باب: من سأل عن ظھر غنی، الحدیث: ۱۸۴۰، ج۲، ص۴۰۲.

2 ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب من یعطی من الصدقۃ، وحد الغنی، الحدیث: ۱۶۲۹، ج۲، ص۱۶۴، بألفاظ متقاربۃ.

و''الجامع الصغیر''، حرف المیم، الحدیث: ۸۷۲۹، ص۵۲۸.

3 ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب من یعطی من الصدقۃ، وحد الغنی، الحدیث: ۱۶۲۶، ج۲، ص۱۶۳.
Flag Counter