Brailvi Books

فضائلِ دعا
266 - 322
روٹی ڈال دی کتے نے کھا کر پھر پیچھا کیا، دوسری روٹی ڈال دی، کتے نے وہ بھی کھا لی مگر پیچھا نہ چھوڑا جب چاروں کھالیں اور بھونکنے سے باز نہ آیا عابد نے کہا: اے حریصِ ناحق کوش! (یعنی:ناحق بات میں کوشش کرنے والے)تجھے شرم نہیں آتی کہ میں تیرے گھر سے بھیک مانگ کر لایا اور تو نے مجھ سے سب چھین لیں اب بھی پیچھا نہیں چھوڑتا، کتے نے کہا: ''میں تجھ سے زیادہ بے شرم نہیں کہ جس مالک نے برسوں بے محنت ومشقت ایسا نفیس رزق تجھے کھلایا، تین روز نہ دینے پر اتنا گھبرا گیا کہ اس کے دشمن کے گھر بھیک مانگنے آیا۔''

    تیسری خرابی :جس سے سوال کرتاہے اسے ناحق رنج دیتاہے کہ اگر وہ سوال رَدّ کردے تو لوگوں سے شرمندگی وندامت ہواورجو خلق سے شرماکر دے تو دل پر گراں گزرے اورآخرت میں مفید نہ ہوبلکہ بسبب ریاکاری کے مضر ہوایسے شخص سے سوال کرنا گویا مُصَادَرَہ اورڈانڈطلب کرنا ہے(یعنی: تاوان طلب کرنا ہے)۔(1)

    صوفیائے کرام کہتے ہیں: ''جس کو جانے کہ یہ لوگوں کی شرم سے دیتا ہے اس سے لینا ممنوع ہے'' اور جو سوال سے خوش ہوتا ہے اور بطیبِ خاطر دیتا ہے (یعنی:خوش دلی کے ساتھ دیتا ہے)بعض اوقات سوال اس پر بھی ناگوار گزرتا ہے خصوصاً اس شخص کا جو بہت سوال کیا کرتا ہے پس بندے کو لائق ہے کہ خدا ہی سے سوال کرے کہ وہ مانگنے سے ناخوش نہیں ہوتا، نہ بار بار عرض کرنے سے ناراض بلکہ اور زیادہ راضی ہوتا ہے۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''إحیاء علوم الدین''، کتاب الفقر والزھد، آداب الفقیر المضطر فیہ، ج۴، ص۲۵۹.

2 ''کیمیائے سعادت''، اصل چھارم درفقر وزھد، ج۲، ص۸۴۳-۸۴۴.
Flag Counter