جو شخص آدمی سے سوال کرتا ہے تین خرابیوں میں پڑتا ہے:
پہلی خرابی: خلق کی نگاہ میں ذلیل وخوار ہو جاتا ہے، ہر ایک کے سامنے عاجزی کرنی پڑتی ہے بندے کو لائق نہیں کہ اپنے نفس کو بلا ضرورت خوار کردے اور سوائے خدائے تعالیٰ کے اور کے سامنے تذلُّل(عاجزی) کرے۔
دوسری خرابی: محتاجی ظاہر کرنا مولیٰ کی شکایت ہے، جو غلام براہِ احسان فراموشی ونمک حرامی اپنے مولیٰ کے انعام وعطا پر قناعت نہ کرے اور دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلائے گویا زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ میرا مولیٰ مجھے ننگا بھوکا رکھتا ہے اور بقدر رفعِ احتیاج نہیں دیتا۔
نقل ہے ایک عابد کسی پہاڑ پر رہتا، وہاں انار کا درخت تھا ہر روز تین انار اس میں آتے، انہیں کھاتا اور عبادت کرتا، حق عزوجل کو امتحان منظور ہوا، ایک روز انار نہ لگے صبر کیا دو روز اور یہی ماجرا گزرا، تیسرے دن گھبرا کر پہاڑ سے نیچے اترا، اس کے نیچے ایک نصرانی رہا کرتا تھا اس سے سوال کیا، نصرانی نے چار روٹیاں دیں، اس کا کتا بھونکنے لگا عابد نے ایک