Brailvi Books

فضائلِ دعا
264 - 322
    (وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُھَا) (1)

    (نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ)(2)
    بشر حافی کہتے ہیں: ''جو کسی کو بُرا نہ کہے اور کسی کے دروازے پر نہ جائے اور کسی سے سوال نہ کرے، دنیا وآخرت میں با آبرو رہے۔'' 

    بعض
 (وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ) (3)
کی تفسیر میں لکھتے ہیں:اپنے رب ہی سے مانگ(4)دوسرے سے سوال نہ کراور
 (اِنَّ لَنَا لَلاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی) (5)
کے تحت میں تحریر کرتے ہیں:
فمن طلبہ من غیرنا فقد أخطأ۔
''تو جو اسے ھمارے غیر سے طلب کرے وہ خطا پر ہو۔''(6)

    موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے: ''جانور کے واسطے گھاس اور ہانڈی کے لیے نمک بھی مجھی سے مانگ۔''(7)

    علماء فرماتے ہیں: ''خدائے تعالیٰ سے سوال کرنا عزت اور غیروں سے مانگنا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ترجمہ کنز الایمان: ''اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو۔ '' 

(پ۱۲، ھود: ۶) 

2 ترجمہ کنز الایمان:'' ہم انھیں بھی روزی دیں گے اور تمہیں بھی۔ '' (پ۱۵، بنيۤ إسرآء یل: ۳۱)

3 ترجمہ کنز الایمان:'' اور پنے رب ہی کی طرف رغبت کرو۔ '' (پ۳۰، ألم نشرح: ۸)

4 ''روح المعاني''، پ۳۰، الانشراح، تحت الآیۃ: ۸، ج۱۵، ص۵۴۶.

5 ترجمہ کنزالایمان:ـ ''بے شک آخرت اوردنیا دونوں کے ہمِیں مالک ہیں۔ '' (پ۳۰، اللیل: ۱۳)

6 ''تفسیر الجلالین مع حاشیۃ الجمل''، اللیل، تحت الآیۃ: ۱۳، ج۸، ص۳۳۹.

7 ''الدر المنثور''، ج۷، ص۳۰۲، پ۲۴، غافر: تحت الآیۃ: ۶۰.
Flag Counter