| فضائلِ دعا |
غیر خدا سے سوال قَبِیْح لِذَاتِہٖ ہے۔
حدیث شریف میں ہے: ''سوال فواحش سے ہے''(1)اور فواحش حرام، پیغمبرِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابو بکر اور ثوبان اور ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اس بات پر بیعت لی کہ سوائے خدائے تعالیٰ کے کسی سے سوال نہ کریں یہاں تک کہ اگر کوڑا گر جاتا، گھوڑے سے اتر کر اٹھا لیتے مگر کسی سے نہ کہتے کہ ہمیں کوڑ ااُٹھا دے۔(2)
اللہ پاک اصحابِ صُفَّہ کی تعریف کرتا ہے:(لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا)(3)
علماء فرماتے ہیں: ''ترکِ سوال ہر حال میں اَولیٰ ہے کہ خدائے تعالیٰ ہر شخص کے رزق کا کفیل ہے۔''
حدیث شریف میں ہے: ''بھوکا اور حاجت مند اگر اپنی حاجت لوگوں سے چھپائے، خدائے تعالیٰ رزق حلال سال بھر تک اسے عنایت کرے۔'' (4)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''کیمیائے سعادت''، اصل چھارم درفقر وزھد، ج۲، ص۸۴۳. و''احیاء علوم ا لدین''، کتاب الفقر والزہد، ج۴، ص۲۵۹. 2 ''السنن الکبری'' للبیھقي، باب کراھیۃ السؤال... إلخ، الحدیث: ۷۸۷۵، ج۴، ص۳۳۰. و''الحدیقۃ الندیۃ''، القسم الثاني، النوع العشرون، ج۲، ص۲۶۷. 3 ترجمہ کنزالایمان: ''لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑگڑانا پڑے ۔'' (پ۳، البقرۃ: ۲۷۳) 4 ''المعجم الصغیر''، باب من اسمہ إبراہیم، الحدیث: ۲۱۴، ج۱، ص۷۹. و''شعب الإیمان''، باب الصبر علی المصائب، الحدیث: ۱۰۰۵۴، ج۷، ص۲۱۵-۲۱۶.