ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ترجمہ کنز الایمان: ''پھر جب ابراہیم کا خوف زائل ہوا اور اسے خوشخبری ملی، ہم سے قومِ لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ بیشک ابراہیم تحمل والا، بہت آہیں کرنے والا، رجوع لانے والا ہے۔''
(پ۱۲، ھود: ۷۴-۷۵)
سورہ ہود کی مذکورہ آیت نمبر ۷۴ کے تحت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ''خزائن العرفان'' میں ارشاد فرماتے ہیں:
''یعنی: کلام وسوال کرنے لگا اورحضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کا مُجادَلَہ یہ تھا کہ آپ نے فرشتوں سے فرمایا کہ قوم لوط کی بستیوں میں اگرپچاس ایماندار ہوں توبھی انہیں ہلاک کرو گے ؟ فرشتوں نے کہا :نہیں، فرمایا: اگر چالیس ہوں ؟ انہوں نے کہا: جب بھی نہیں، آپ نے فرمایا: اگر تیس ہوں ؟ انہو ں نے کہا:جب بھی نہیں، آپ اس طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: اگر ایک مرد مسلمان موجود ہو تب ہلاک کردو گے ؟ انہوں نے کہا: نہیں تو آپ نے فرمایا: اس میں لوط علیہ السلام ہیں، اس پرفرشتوں نے کہا: ہمیں معلوم ہے جو وہاں ہیں، ہم حضرت لوط علیہ السلام کو اورانکے گھر والوں کو بچائیں گے ، سوائے انکی عورت کے ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ عذاب میں تاخیر چاہتے تھے تاکہ اس بستی والوں کو کفر ومعاصی سے باز آنے کیلئے ایک فرصت اورمل جائے،چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والتسلیم کی صفت میں ارشاد ہوتاہے(کہ بے شک ابراہیم تحمل والا، بہت آہیں کرنے والا، رجوع لانے والا ہے)۔''
2 ترجمہ کنز الایمان: ''مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ '' (پ۲۴، المؤمن: ۶۰)