( وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ))(2)۔
حضورپُرنورسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرف اشارہ فرمایا:
فالرجل ھو النازع للقدر لا الموافق لہ کما تقدم۔(3)
آخر اپنے رب عزوجل کو نہ سنا، کہ اپنے خلیلِ جلیل علیہ الصلاۃ والتسلیم کی نسبت کیا فرماتا ہے:
(فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ اِبْرٰہِیْمَ الرَّوْعُ وَجَآءَ تْہُ الْبُشْرٰی یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی مذکورہ اعتراض کا جواب مصنف علام قدس سرہ نے ۳تین طرح سے دیا ان میں سب سے افضل وصحیح تر جواب یہ ہے۔
2 ترجمہ کنز الایمان: ''اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔''(پ۲۶، محمد: ۱۹)
3 مَرد وہ ہے جو تقدیراتِ حق میں حق ہی کی اجازت سے اس کے حضور منازَعت کرے نہ کہ تسلیم۔ جیساکہ صفحہ ۱۸۶پر گزرا۔