Brailvi Books

فضائلِ دعا
260 - 322
    تیسری وجہ: کہ اَصَحّ وافضل وجوہ ہے(1)یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مقامِ بَقاکہ اس مقامِ فنا سے ہزاروں درجے ارفع واعلیٰ ہے ،حاصل تھا، اس مقام میں دعا وسوال
وتَوَجُّہ بِخَلْق وتَمَیُّز بَیْنَ الصَّلَاح والفَسَاد
 (یعنی مخلوق کی طرف توجہ اور بھلائی اور برائی کے ما بین فرق کرنا)جائز بلکہ لازم ہے اور شفاعت وعذر خواہی اپنے مُتعلِّقوں اور متوسِّلوں کی طرف سے واجب۔
    قال الرضاء: قال اللہ تعالٰی:
 ( وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ))(2)۔
    حضورپُرنورسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرف اشارہ فرمایا:
    فالرجل ھو النازع للقدر لا الموافق لہ کما تقدم۔(3)
    آخر اپنے رب عزوجل کو نہ سنا، کہ اپنے خلیلِ جلیل علیہ الصلاۃ والتسلیم کی نسبت کیا فرماتا ہے:
    (فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ اِبْرٰہِیْمَ الرَّوْعُ وَجَآءَ تْہُ الْبُشْرٰی یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی مذکورہ اعتراض کا جواب مصنف علام قدس سرہ نے ۳تین طرح سے دیا ان میں سب سے افضل وصحیح تر جواب یہ ہے۔

2 ترجمہ کنز الایمان: ''اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔''(پ۲۶، محمد: ۱۹)

3 مَرد وہ ہے جو تقدیراتِ حق میں حق ہی کی اجازت سے اس کے حضور منازَعت کرے نہ کہ تسلیم۔ جیساکہ صفحہ ۱۸۶پر گزرا۔
Flag Counter