| فضائلِ دعا |
اَولویّتِ ترک کے منافی نہیں۔(1)
اسی واسطے کہتے ہیں: بعض وقت دعااور بعض وقت اس کا ترک اولیٰ ہے اور صفت اس کی باشارہ قلب اسی وقت معلوم ہوتی ہے۔
قال الرضاء:مگر انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام کے توارُدِ احوال حالاتِ اہل تلوین(2)سے پاک ومنزہ ہیں، وہ سردارانِ اصحابِ تمکین ہیں اور احوالِ متعاقبہ ادھر کی تجلیاتِ گونا گون کے آئینہ ہیں، وہاں جو کچھ ہے افضل واکمل واحسن واجمل احوال ہے خصوصاًسيد الانبياءعلیہ وعلیھم أفضل الصلاۃ والثناء۔
قال تعالٰی:(وَ لَلْاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾)
''جو آن آتی ہے تیرے لیے گزشتہ آن سے افضل واعلیٰ ہے۔''
(پ۳۰، الضحٰی: ۴)
فاحفظ واستقم(3))o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام کے حق میں افضل واولیٰ تو ترکِ دعا ہے اس کے باوجود اللہ عزوجل کے پیارے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بعض احوال میں دعا فرمانا اس افضل واولیٰ کے منافی نہیں اس لئے کہ ان کا ہر فعل اُمت کی تعلیم کیلئے ہے۔
2 اہل تلوین سے مراد وہ سالک ہے جو ایک حال سے دوسرے حال یا ایک وصف سے دوسرے وصف کی جانب منتقل ہو اسے صوفیائے کرام کی اصطلاح میں اہل تلوین کہا جاتاہے یہ اربابِ احوال کی صفت ہے۔
اہل تمکین: اہل حقیقت کی صفت جو مقام استقامت وثبات ہے، یہ اہلِ حقائق کی صفت ہے۔(یہ تلوین سے اعلیٰ ہے)۔ (''الرسالۃ القشیریۃ''، ص۱۱۴)
3 اسے یاد کر لیجئے اور اسی پر استقامت کے ساتھ جمے رہیے۔