دوسری وجہ: انسان ہر وقت ایک مقام پر نہیں رہتا، ورنہ کارخانہ ہدایت ونصیحت میں فُتور(یعنی خلل)واقع ہو۔ ایک روز حضرت حَنْظَلَہٗ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے کہنے لگے: حنظلہ منافق ہوگیا، صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حال پوچھا، کہا: جب تک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا ہوں اپنے دل میں ذوق وشوق پاتا ہوں جب مجلسِ اَقدس سے جُدا ہوا اور اہل وعیال سے ملا، وہ ذوق وشوق نہیں رہتا فرمایا: اپنا بھی یہی حال ہے چلو حضور سے یہ حال عرض کریں، عرض کی، فرمایا: ''آدمی ایک حال پر نہیں رہتا، اگر تم ایک حال پر رہو تو کپڑے پھاڑ کر نکل جاؤ اور عورتوں اور بچوں سے کنارہ کرو اور فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔''(1)
منقول ہے: کسی نے حضرت یعقوب علیہ الصلاۃ والسلام سے کہا: آپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی بوئے پیراہن (قمیص کی خوشبو)مصر سے سونگھی اور کَنْعان کے کنوئیں میں ان کی خبر نہ لی، فرمایا: ھمارا حال یکساں نہیں رہتا۔ ؎