Brailvi Books

فضائلِ دعا
257 - 322
    حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ فعل بھی اسی قسم سے ہے تا(کہ) لوگ سمجھیں کہ دُعا وسوال ھمارے لئے ہے ترکِ خواست خَواص کے لئے خاص ہے۔ 

    قال الرضاء: حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شارع ہیں حضور کا فعل عام اُمت کی اقتداء کے لئے ہے حضور اگر اپنے مقامِ عالی سے عامہ خلق کے لئے تَنَزُّل نہ فرمائیں، اتباعِ سنّت تمام جہان کو مُحال ہو جائے، ولہٰذا تمام رات شب بیداری اوررمضان مبارک کے سوا پورے مہینے کے روزے کبھی حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے منقول نہیں، شب کو قیام بھی فرماتے اور آرام بھی، نفلی روزے بھی رکھتے اور اِفطار بھی (یعنی: کبھی روزے نہ بھی رکھتے)ایک بار استنجاء فرمایا فاروقِ اعظم پانی حاضر لائے ارشاد ہوا: یہ کیا ہے؟ عرض کی: حضور کے وضو کو پانی، فرمایا:مجھے حکم نہ دیا گیا کہ ہر پیشاب کے بعد وضو فرماؤں:
 ((ولو فعلتُ لکانت سُنّۃ))
''اور میں ایسا کرتا تو سنّت ہو جاتا۔''(1)

    اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر وقت با وضو رہنا افضل نہیں، یا اَکابر بندگانِ خدا کا تمام رات عبادت میں گزارنا، ایام مُحَرَّمہ(2)کے سوا نفلی روزے رکھنا، خلافِ سنت ہے یہ مقاصد شارع سے محض ناواقفی وجہالت ہے۔ )o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب في الاستبراء، الحدیث: ۴۲، ج۱، ص۴۹.

و''سنن ابن ماجہ''، کتاب الطھارۃ، باب من بال ولم یمس ماء، الحدیث: ۳۲۷، ج۱، ص۲۰۷-۲۰۸.

2 وہ ایام کہ جن میں روزہ رکھنا منع ہے۔ وہ سال کے پانچ دن ہیں: چار دن عید الاضحی کے(۱۰ سے ۱۳ ذی الحجہ) اور ایک دن عید الفطر کا۔
Flag Counter