حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ فعل بھی اسی قسم سے ہے تا(کہ) لوگ سمجھیں کہ دُعا وسوال ھمارے لئے ہے ترکِ خواست خَواص کے لئے خاص ہے۔
قال الرضاء: حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شارع ہیں حضور کا فعل عام اُمت کی اقتداء کے لئے ہے حضور اگر اپنے مقامِ عالی سے عامہ خلق کے لئے تَنَزُّل نہ فرمائیں، اتباعِ سنّت تمام جہان کو مُحال ہو جائے، ولہٰذا تمام رات شب بیداری اوررمضان مبارک کے سوا پورے مہینے کے روزے کبھی حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے منقول نہیں، شب کو قیام بھی فرماتے اور آرام بھی، نفلی روزے بھی رکھتے اور اِفطار بھی (یعنی: کبھی روزے نہ بھی رکھتے)ایک بار استنجاء فرمایا فاروقِ اعظم پانی حاضر لائے ارشاد ہوا: یہ کیا ہے؟ عرض کی: حضور کے وضو کو پانی، فرمایا:مجھے حکم نہ دیا گیا کہ ہر پیشاب کے بعد وضو فرماؤں: