Brailvi Books

فضائلِ دعا
256 - 322
    یہ آواز حضرت بشر کے گوش مبارک میں پڑی فورا ًحال متغیر ہوا، بیتابانہ ننگے پاؤں دوڑے، فقیر کو نہ پایا، دنیا چھوڑی، محبت مولیٰ کے رنگ میں رنگے گئے مگر اس دن سے جوتا نہ پہنا، اگر کوئی پوچھتا فرماتے:میرے مولیٰ نے مجھ سے اسی حالت پر صلح کی(1)، یعنی جس وقت جذبِ الٰہی نے مجھے اپنی طرف کھینچا میں اس وقت ننگے پاؤں ہی تھا، لہٰذا اسی حال پررہنا چاہتا ہوں۔

    اب ان کی قدرِ برہنہ پائی دیکھئے جب تک زندہ رہے تمام جانوروں نے راستوں میں لِید، گوبر، پیشاب کرنا چھوڑ دیا کہ حافی کے پاؤں خراب نہ ہوں۔ ایک دن کسی نے بازار میں لید پڑی دیکھی کہا:
 (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ)(2)
پوچھا گیا:کیا ہے؟ کہا:حافی نے انتقال کیا، تحقیق کے بعد یہی امر نکلا۔
رضي اللہ تعالٰی عن أولیاء ہ ونفعنا ببرکاتہم في الدنیا والدین، آمین(3).)o
    جواب اس شبہ کا تین۳ وجہ سے ہے:

    پہلی وجہ: پیغمبر خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خلق کی ہدایت ورہنمائی کیلئے تشر یف لائے بعض اوقات حضور اَولیٰ کو چھوڑ کر اَدنیٰ کو اختیار فرماتے تاکہ لوگ اس کے جواز سے واقف ہوں یہ مَفْضُول ان کے لئے ہزار افضل اور یہ اَدنیٰ لاکھ اعلیٰ سے اَولیٰ تھا۔(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''روض الریاحین''، الفصل الثاني فی إثبات کرامات الأولیاء ، ص۲۱۷-۲۱۸.

2 ترجمہ کنزالایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔(پ۲، البقرۃ:۱۵۶)

3اللہ عزوجل اپنے اولیا سے راضی ہو اورہمیں ان مقدس حضرات کی برکتوں سے دین ودنیا میں نفع پہنچائے آمین ۔

4 یعنی وہ عمل بظاہر کم افضل معلوم ہوتا ہے ورنہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس عمل کو اختیار فرمایاوہی افضل واعلیٰ ہے۔
Flag Counter