Brailvi Books

فضائلِ دعا
255 - 322
    قال الرضاء: اس حکایت کے اِیراد سے مقصود حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہ،(یعنی مُصَنِّف کا یہاں اس حکایت کو ذکر کرنے کا مقصد)صرف اس قدر کہ جو دقیقہ سنّت نے نامعتبر رکھا دوسرا اس کا اعتبار نہیں کر سکتا۔ ولہٰذا حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یہ خیال آیا کہ پاخانے جانے میں نجاست کی مکھیاں کپڑوں پر بیٹھتی ہیں، نماز کیلئے لباس جداگانہ چاہیے فوراً اس سے رجوع فرمائی کہ صحابہ کرام، ائمہ دین تھے جب انہوں نے یہ امر رَوا رکھا دوسرا کون اسے معیوب کہہ سکتا ہے!(1)

    رہا اِن وَلیُّ اللہ کا اعتراض وہ اس وجہ پر متوجہ ہے جو بیان کرنے والے نے ذکر کی، نہ معاذ اللہ حضرت حافی
قُدِّسَ سِرُّہ، الصَّافِيْ
کی برہنہ پائی پر،ان کی برہنہ پائی کی وجہ وہ تھی جو خود انہوں نے بیان فرمائی، اور امام یافعی نے ''روض الریاحین ''میں ذکر کی کہ وہ امیر کبیر تھے ، رئیسانہ عیش وعشرت میں بسر کرتے ایک دن اپنی مجلس بیغمی میں تھے کہ دروازے پر کسی فقیر نے آوازی دی کنیز گئی،

     فقیر نے پوچھا: تیرا آقا کیا کرتا ہے؟ 

    اس نے بیان کیا،

     کہا: تیرا آقا بندہ ہے یا آزاد؟ 

    کہا: آزاد، 

    کہا: سچ کہتی ہے، بندہ ہوتا تو بندگی میں ہوتا،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''ردّ المحتار''، کتاب الطھارۃ، باب الأنجاس، ج۱، ص۵۸۱. 

و''حاشیۃ الطحطاوي علی ''المراقي''، کتاب الطھارۃ، فصل فیما یجوز بہ الاستنجائ، ص۵۴.

و''البریقۃ المحمودیۃ''، ج۶، ص۲۶۴.
Flag Counter