فرما کر بدعتِ حسنہ کو سنّت میں داخل فرما لیا اور اس کے ایجاد کرنے والے کو سُنّی قرار دیا کہ سنّت کا ضابطہ یہ ہے کہ جس بات کو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقرر رکھا یا جو کام حضور نے مداومت واِظہار کے ساتھ کیا اور حضور کا وہ ارشاد بھی حضور کا فعل ہے کہ اس میں قیامت تک بدعتِ حسنہ نکالنے کا اذن اور اسے برقرار رکھنا اور بتا دینا ہے کہ اسے شرعاً اس کی اجازت ہے اور قیامت تک جو اس پر عمل کریں ان سب کے ساتھ اجر وثواب ہے۔'')o (1)
ایک شخص نے کسی فقیر سے بشر حافی کا حال بیان کیا کہ انہوں نے جوتا پہننا چھوڑ دیا تھا کہ زمین فرشِ خدا ہے وہ فرماتا ہے:(وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰھَا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْنَ)
''زمین کو ہم نے فرش کیا تو کیا اچھا بچھانے والے ہیں ہم۔''
(پ۲۷، الذاریات: ۴۸)
جب کہ ہم امیروں اور بادشاہوں کے فرش پر جوتا پہن کر نہیں جا سکتے خدائے تعالیٰ کے فرش پر جوتا پہن کر کس طرح پھریں۔ فقیر نے کہا:
اے عزیز! جو شخص نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی امر اختیار کرے اپنے کام میں خَجالت(شرمندگی) اٹھائے۔ بشر حافی نے اگر یہ سمجھ کر جوتا پہننا چھوڑا، پاخانے پیشاب کے لیے کس جگہ کو مقرر کیا!؟۔ آیت کے یہ معنی نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ جس بادشاہ کے فرش پر جوتا پہن کر پھریں یا پاخانہ پیشاب کریں، خراب وناپاک ہو جائے،(وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰھَا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْن)
''زمین کو ہم نے فرش کیا پس کیا اچھے ہیں ہم بچھانے والے ''
(پ۲۷، الذاریات: ۴۸)
کہ ھمارے فرش پر تمام جہان چلتا پھرتا پاخانہ پیشاب کرتا ہے مگر خراب نہیں ہوتا۔ جس وقت نجاست خشک ہو کر زائل ہوتی ہے بے دھوئے اس پر نماز جائز ہوتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''الحدیقۃ الندیۃ''، ثم اعلم أیہا المکلف أنّ فعل البدعۃ السیئۃ... إلخ، ج۱، ص۱۴۷.