Brailvi Books

فضائلِ دعا
253 - 322
اور دعا اور سوال کو چھوڑ دے۔

     علماء فرماتے ہیں: جو شخص نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی بات نکالے اس کے منہ پر ماری جائے۔(1)

    قال الرضاء:بڑھنا یہ ہے کہ بے اِذنِ حضور اِقدام کرے (یعنی جس بات کی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت نہ فرمائی ہو وہ کام کرے)اور یہ نہ ہوگا مگر مخالَفت میں، ورنہ ارشاد ِاَقدس حضور پُرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:
 ((من سنّ في الإسلام سنۃ حسنۃ کان لہ أجرھا وأجر من عمل بھا إلی یوم القیامۃ لا ینقص من أجورھم شیأ))(2)۔
    ''جو اسلام میں اچھی راہ پیدا کرے اس کا اور قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب اسے ملتا ہے اور ان عاملوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو۔''خود حضور پُرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اذنِ عام ہے۔ سیدی علامہ عبد الغنی نابلسی
قُدِّسَ سِرُّہ، الْقُدْسِيُّ
''حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ ''میں فرماتے ہیں:
    ''أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((من سنّ سنۃ حسنۃ)) فسمی المبتدع للحسن مستناً فأدخلہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في السُّنّۃ وضابطۃ السُّنّۃ ما قرّرہ وفعَلہ النبيُّ صلی اللہ علیہ وسلم وداوَمَ علیہ ومن جملۃ قولہ فعلُہ صلی اللہ علیہ وسلم؛ لأنّہ تقریر وإذن في ابتداع السنۃ الحسنۃ إلی یوم الدین وإنّہ مأذون لہ بالشرع فیھاومأجور علیہ مع العاملین لھا بدوامھا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''مرقاۃ المفاتیح''، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ، الفصل الأوّل، تحت الحدیث: ۱۴۰، ج۱، ص۳۶۶. 

2 ''صحیح مسلم''، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ... إلخ، الحدیث: ۱۰۱۷، ص۵۰۸.

و''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۲۳۷۲، ج۲، ص۳۲۹.
Flag Counter