سوال پنجم(۵): صوفیائے کرام فرماتے ہیں: جب تک بندہ اپنی خواہش سے دست بردار نہیں ہوتا گَرد اس دولت کی اسکے دامن کو نہیں چھوتی۔ اگر ایک ذرہ مراد وآرزو کا باقی رہے اس دشت خونخوار (خطرناک میدان) میں قدم نہ رکھ سکے۔
جواب : حکم تَصَوُّف کا مانندِ حکمِ فقہ کے عام نہیں بلکہ باختلافِ احوال ومَوَاجید واَذواق (بلکہ تصوف کا حکم ذوق و شوق اور حالت کے مختلف ہونے سے)مختلف ہوتا ہے اسی لیے حکم فقہ کا صوفی پر جاری ہے اور انکار صوفی کا فقہ پر صحیح نہیں، صو فی کو رجوع بَفقہ ضرور ہے اور فقیہ کو رجوع بتصوف فرض ۱ ؎نہیں ۔
امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:''جو فقہ حاصل کرے اور تصوّف سے واقف نہ ہو متکلّف (یعنی دشواری میں پڑنے والا)ہے اور جو تصوّف حاصل کرے اور علمِ فقہ سے غافل ہو زِندیق(1) (بے دین)ہے اور جو دونوں جمع کرے محقق ہے۔''(2)
تصوف ہر چند برتر وافضل ہے مگر فقہ اَسلم واَشمل ہے(3)اسی واسطے کہتے ہیں:باطن ظاہر پر مقدم نہ کیا جائے، نہ تحصیل میں، نہ احکام کی تعمیل میں کہ تحصیلِ فقہ بعد اَز تَعَمُّقْ