| فضائلِ دعا |
اب تسلیم وتفویض کا فرق اور دونوں سوالوں میں مُغَایَرت (علیحدگی) کھل گئی اور جواب کہ حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہ، نے ارشاد فرمایا، اس کی توضیح یہ ہے کہ اکثر حبسِ مدعا یا اِنزالِ بَلا (مراد بر نہ آنا یا کوئی بلا ومصیبت کا اترنا) اِس لئے ہوتا ہے کہ بندے ھمارے حضور اِلحاح وزاری کریں اور عاجزانہ بیکسانہ گڑ گڑاتے منہ اور تھر تھراتے ہاتھ ھماری بارگاہ میں لائیں، وہ خود فرماتا ہے:
( فَلَوْلَآ اِذْ جَآءَ ھُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوْا)
''تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ھماری طرف سے سختی آئی تھی گڑگڑائے ہوتے''
(پ۷، الأنعام: ۴۳).
اور وارد کہ فرماتا ہے:
((مَنْ لَا یَدْعُوْنِيْ أَغْضَبُ عَلَیْہِ)).
''جو مجھ سے دعا نہ کریگا، میں اس پر غضب فرماؤں گا'' (1) اور گزرا کہ کبھی عطائے مراد میں دیر اس لئے کرتے ہیں کہ ھمارے حضور زیادہ گڑگڑائے، تو ثابت ہوا کہ اِلحاح وزاری میں مصروف ہونا عین رضائے مولیٰ ہے نہ کہ اس کے خلاف ؎
بلبلے برگ گلے خوش رنگ در منقار داشت واندراں برگ ونوا خوش نالہائے زارداشت گفتمش در عین وصل ایں نالہ وفریاد چیست گفت مارا جلوہ معشوق درایں کارداشت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''کنز العمال''، کتاب الأذکار، الباب الثامن، الحدیث:۳۱۲۴، الجزء الثاني، ج۱، ص۲۹.
فافھم، واللہ سبحانہ وتعالٰی أعلم۔)o