Brailvi Books

فضائلِ دعا
249 - 322
    سوال چَہارُم (۴): دعا مقامِ رِضا وتسلیم کے خلاف ہے، جب بندہ اپنے مقدر پر راضی ہو گیا تو دعا سے کیا کام رہا؟

جواب: دعا خلافِ رضا نہیں، ہو سکتا ہے کہ حصولِ مدعا یا نَجات اَز بَلا دعا پر مقدر ہو۔

    قال الرضاء:یہ سوال، سوالِ دُوُم کا غیر ہے۔ وہاں بر بنائے تفویض سوال تھا یہاں بر بنائے رضا وتسلیم اور تفویض ورضا میں فرق بَیِّن (ظاہر) ہے، رِضا کا مرتبہ تفویض کے درجہ سے اعلیٰ ہے۔ 

    تفویض یہ کہ اپنے کام دوسرے کے سپرد کیجئے اب چاہے وہ سیاہ وسپید کچھ کرے، اصلاً دخل نہ دیجئے، عام ازیں کہ اپنے دل کو بھائے یا ناپسند آئے، جیسے مدعی ومدعا علیہ کسی کو اپنے معاملے کا حکَم (ثالثی یعنی فیصلہ کرنے والا) بنا دیتے ہیں جی تو ہر ایک کا یہی چاہتا ہے کہ میرے موافق کرے، پھرا سکے سپرد کر دیتے ہیں کہ جو تیری سمجھ میں آئے کر دے۔

     اور رضا وتسلیم یہ کہ اپنا اِرادہ اس کے ارادے میں فنا ہو جائے جو کچھ وہ چاہے اپنا دل بھی اسی کو پسند کرے اور اس کے خلاف کی خواہش نہ رکھے ولہٰذا قرآن عظیم میں:
 (فَلا وَرَبِّکَ لا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ)
پر اکتفا نہ فرمایا ''یعنی قسم تیرے رب کی وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک تجھے حَکَم نہ بنائیں اس جھگڑے میں جو اِن کے آپس میں ہو'' کہ فقط اس قدر تو ہر حُکم حَکَم کے ساتھ ہوتا ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حضور اس کے ساتھ یہ بھی ضرور کہ
 (ثُمَّ لا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا)
''یعنی پھر نہ پائیں اپنے دلوں میں اصلاً تنگی تیرے حکم سے اور تسلیم کر لیں مان کر۔''
 (پ۵، النسآء: ۶۵)
Flag Counter