Brailvi Books

فضائلِ دعا
248 - 322
مدتِ خاص کے لئے ہے
کقولہ تعالی:
 (حَتّٰی یَتَوَفّٰىہُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللہُ لَہُنَّ سَبِیۡلًا )(1)
    دوسرے وہ کہ علمِ الٰہی میں تو ان کے لیے ایک مدت ہے مگر بیان نہ فرمائی گئی جب وہ مدت ختم ہوتی اور دوسرا حکم آتا ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حکم اول بدل گیا حالانکہ ہر گز نہ بدلا
 (لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللہِ) (2)
بلکہ اس کی مدت یہیں تک تھی، گو ہمیں خبر نہ تھی، ولہٰذا ھمارے علماء فرماتے ہیں:نسخ تبدیلِ حکم نہیں بلکہ بیانِ مدّت کا نام ہے۔(3)

    تیسرے وہ کہ علمِ الٰہی میں ہمیشہ کے لیے ہیں، جیسے:نماز کی فرضیت، زِنا کی حرمت، یہ اصلاً صالحِ نسخ نہیں یہ قضائیں بھی بصورت امر ہوتی ہیں۔ مثلاً: فلاں وقت فلاں کی روح قبض کرو، فلاں روز فلاں کو یہ دو یہ چھین لو، نہ بصیغہ خبر(4)، کہ خبرِ الٰہی میں تَخَلُّف محال بالذات ہے:
 (وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ)(5)
واللہ تعالٰی أعلم
 (اللہ تعالیٰ خوب تر جانتاہے)۔)o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ترجمہ کنز الایمان: ''یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے۔''

(پ۴، النسآء: ۱۵) 

2 ترجمہ کنز الایمان: ''اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ ''(پ۱۱، یونس: ۶۴)

3 ''التفسیرات الأحمدیۃ''، في جواز نسخ القرآن، ص۱۵.

4''خبر اس کلام کو کہتے ہیں جس میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال ہو۔''

5 ترجمہ کنزالایمان : ''اورپوری ہے تیرے رب کی بات سچ اورانصاف میں ، اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اوروہی ہے سنتا جانتا ۔ ''(پ۸، الأنعام: ۱۱۵)
Flag Counter