(لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللہِ) (2)
بلکہ اس کی مدت یہیں تک تھی، گو ہمیں خبر نہ تھی، ولہٰذا ھمارے علماء فرماتے ہیں:نسخ تبدیلِ حکم نہیں بلکہ بیانِ مدّت کا نام ہے۔(3)
تیسرے وہ کہ علمِ الٰہی میں ہمیشہ کے لیے ہیں، جیسے:نماز کی فرضیت، زِنا کی حرمت، یہ اصلاً صالحِ نسخ نہیں یہ قضائیں بھی بصورت امر ہوتی ہیں۔ مثلاً: فلاں وقت فلاں کی روح قبض کرو، فلاں روز فلاں کو یہ دو یہ چھین لو، نہ بصیغہ خبر(4)، کہ خبرِ الٰہی میں تَخَلُّف محال بالذات ہے:
(وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ)(5)
(اللہ تعالیٰ خوب تر جانتاہے)۔)o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ترجمہ کنز الایمان: ''یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے۔''
(پ۴، النسآء: ۱۵)
2 ترجمہ کنز الایمان: ''اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ ''(پ۱۱، یونس: ۶۴)
3 ''التفسیرات الأحمدیۃ''، في جواز نسخ القرآن، ص۱۵.
4''خبر اس کلام کو کہتے ہیں جس میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال ہو۔''
5 ترجمہ کنزالایمان : ''اورپوری ہے تیرے رب کی بات سچ اورانصاف میں ، اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اوروہی ہے سنتا جانتا ۔ ''(پ۸، الأنعام: ۱۱۵)