Brailvi Books

فضائلِ دعا
247 - 322
    ولہٰذا فرماتے ہیں: ''تمام اولیاء مقامِ قدر پر پہنچ کر رک جاتے ہیں سوا میرے، کہ جب میں وہاں پہنچا میرے لیے اس میں ایک رَوزن (روشندان) کھولا گیا جس سے داخل ہو کر
''نَازَعْتُ أَقْدَارَ الْحَقِّ بِالْحَقِّ لِلْحَقِّ۔ ''
    ''میں نے تقدیراتِ حق سے حق کے ساتھ حق کے لیے منازَعت کی ۔'' 

مرد وہ ہے جو منازَعت کرے نہ وہ کہ تسلیم۔
    رواہ الإمام الأجل سیدي أبو الحسن علي نور الدین اللخمي قُدِّسَ سِرُّہ، في ''البھجۃ'' المبارکۃ بسندین صحیحین ثلاثیین عن الإمام الحافظ عبد الغني المقدسي والإمام الحافظ ابن الأخضر رحمھما اللہ تعالٰی سمعا سیدنا الغوث الأعظم رضي اللہ عنہ وأرضاہ وحشرنا في زمرۃ من تبعہ ووالاہ، آمین۔(1)
    نظیر اس کی احکام ظاہریہ شرعیہ ہیں وہ بھی تین۳ طرح آتے ہیں:

    ایک مُعَلَّقْ ظَاہِرُ التَّعْلِیْق کہ حکم کے ساتھ ہی بیان فرما دیا کہ ہمیشہ کو نہیں۔ ایک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 اس کو جلیل القدر امام، ھمارے سردار ابو الحسن علی نور الدین اللخمی نے اپنی کتاب ''بہجۃ الاسرار'' شریف میں دو صحیح سندوں کے ساتھ جو کہ تین واسطوں سے ہیں، روایت کیا، ایک سند امام حافظ عبد الغنی المقدسی اور دوسری امام حافظ ابن الاخضر علیھما الرحمہ سے انہوں بلا واسطہ غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس بات کی سماعت کی، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور انھیں ہم سے راضی کرے اور ہمیں انکے متبعین اور انکی طرف رجوع کرنے والوں میں اٹھائے۔آمین !

''بہجۃ الأسرار''، ذکر کلمات أخبربہا عن نفسہ محدثا بنعمۃ ربک، ص۵۲.
Flag Counter