Brailvi Books

فضائلِ دعا
246 - 322
    تحقیق اس مقام کی یہ ہے کہ قضائے مُعَلَّقْ د ۲و قسم ہے: 

    ایک مُعَلَّقْ مَحْض جس کی تعلیق کا ذکر لوحِ محو واِثبات یا صُحُفِ ملائکہ میں بھی ہے، عام اولیاء جن کے علوم اس سے مُتَجاوز نہیں ہوتے ایسی قضا کے دفع پر دعا کی ہمت فرماتے ہیں کہ انہیں بوجہ ذکرِ تعلیق اس کا قابلِ دفع ہونا معلوم ہوتا ہے۔ 

    دوسری مُعَلَّقْ شَبِیْہ بِالْمُبْرَم کہ علمِ الٰہی میں تو مُعَلَّقْ ہے مگر لوحِ محو واِثبات ودفاتر ِملائکہ میں اس کی تعلیق مذکور نہیں، وہ ان ملائکہ اور عام اولیاء کے علم میں مُبْرَم ہوتی ہے، مگر خواص عبادُ اللہ جنہیں امتیازِ خاص ہے، باِلہامِ ربانی بلکہ برؤیت مقامِ اَرفع حضرت مخْدَع (1)اس کی تعلیقِ واقعی پر مُطَّلِعْ ہوتے ہیں اور اس کے دفع میں دعا کا اِذن پاتے ہیں، اور یا عام مؤمنین جنہیں اَلواح وصحائف پر اطلاع نہیں حسب عادت دعا کرتے ہیں اور وہ بوجہ اس تعلیق کے جو علم الٰہی میں تھی مُنْدَفِع ہو جاتی ہے، یہ وہ قضائے مُبْرَم ہے جو صالحِ رَدّ(یعنی ٹل سکتی) ہے، اور اسی کی نسبت حضورِ غوثیت کا ارشادِ اَمجد۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''بہجۃ الأسرار'' شریف میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول کہ ''میں لوگوں کے حالات سے علیحدہ ہوں میں ان کی عقلوں سے علیحدہ ہوں تمام مردان خدا جب تقدیر تک پہنچتے ہیں تو رک جاتے ہیں مگر میں وہاں تک پہنچتا ہوں اورمیرے لئے ایک کھڑکی کھل جاتی ہے اس میں داخل ہوتا ہوں اور تقدیرات حق سے حق کے ساتھ حق کیلئے منازعت کرتا ہوں '' اسی مقام کو مخدَعْ کہتے ہیں۔

    قصیدہ غوثیہ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:

 			أنا الحَسَنيُّ والمخدع مَقامِي

 			وأَقدامِي  علی  عُنُق  الرِّجال

    ''میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہوں اوربڑا مرتبہ ہے میرا،اورمیرے قدم تمام اولیاء کی گردنوں پر ہیں۔''
Flag Counter