تحقیق اس مقام کی یہ ہے کہ قضائے مُعَلَّقْ د ۲و قسم ہے:
ایک مُعَلَّقْ مَحْض جس کی تعلیق کا ذکر لوحِ محو واِثبات یا صُحُفِ ملائکہ میں بھی ہے، عام اولیاء جن کے علوم اس سے مُتَجاوز نہیں ہوتے ایسی قضا کے دفع پر دعا کی ہمت فرماتے ہیں کہ انہیں بوجہ ذکرِ تعلیق اس کا قابلِ دفع ہونا معلوم ہوتا ہے۔
دوسری مُعَلَّقْ شَبِیْہ بِالْمُبْرَم کہ علمِ الٰہی میں تو مُعَلَّقْ ہے مگر لوحِ محو واِثبات ودفاتر ِملائکہ میں اس کی تعلیق مذکور نہیں، وہ ان ملائکہ اور عام اولیاء کے علم میں مُبْرَم ہوتی ہے، مگر خواص عبادُ اللہ جنہیں امتیازِ خاص ہے، باِلہامِ ربانی بلکہ برؤیت مقامِ اَرفع حضرت مخْدَع (1)اس کی تعلیقِ واقعی پر مُطَّلِعْ ہوتے ہیں اور اس کے دفع میں دعا کا اِذن پاتے ہیں، اور یا عام مؤمنین جنہیں اَلواح وصحائف پر اطلاع نہیں حسب عادت دعا کرتے ہیں اور وہ بوجہ اس تعلیق کے جو علم الٰہی میں تھی مُنْدَفِع ہو جاتی ہے، یہ وہ قضائے مُبْرَم ہے جو صالحِ رَدّ(یعنی ٹل سکتی) ہے، اور اسی کی نسبت حضورِ غوثیت کا ارشادِ اَمجد۔