Brailvi Books

فضائلِ دعا
245 - 322
بیان عنقریب آتا ہے، پہلے یہ جانیے کہ یہاں بعض اشخاص کو قولِ حضور پُرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کہ ''سب اولیاء قضائے مُعَلَّق کو روکتے ہیں اور میں قضائے مُبْرَم کو رَد فرماتا ہوں''
أو کما قال رضي اللہ عنہ
 (یا اسی طرح کاارشادجو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا) شُبہ گزرتا ہے کہ قضائے مُبْرَم کیونکر قابلِ رَدّ ہو سکتی ہے!

    أقول: شاید اِن صاحبوں کو حدیثِ
أبي الشیخ في ''کتاب الثواب'' عن أنس رضي اللہ عنہ
نہ پہنچی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    ((أکثر من الدعاء فإنّ الدعاء یردّ القضاء المبرم)).
    ''دعا بکثرت مانگ کہ دعا قضائے مُبْرَم کو رد کر دیتی ہے۔''(1)

    حدیث ابن عساکر عن نمیر بن أوس مرسلًا(2)وحدیث الدیلمي عن أبي موسی رضي اللہ تعالی عنہ موصولًا کہ حضور پُرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    ((الدعاء جند من أجناد اللہ مجنَّد یردّ القضاء بعد أن یبرم)).
    ''دعا اللہ تعالیٰ کے لشکروں سے ایک لام باندھا لشکر ہے (یعنی ہر طرح کے جنگی سامان سے لیس لشکر ہے) کہ قضا کو رَدّ کر دیتا ہے بعد مُبْرَم ہونے کے۔''(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''کنز العمال''، کتاب الأذکار، الباب الثامن في الدعاء، الحدیث:۳۱۱۷، ج۱، ص۲۸.

2 حدیث مرسل کی تعریف: جس حدیث کی سند کے اخیر سے راوی کو ساقط کردیا جائے، مثلاً: تابعی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کرے اور صحابی کو چھوڑ دے۔ (''تیسیر مصطلح الحدیث''، ص۷۰)

3 ''تأریخ دمشق''=''ابن عساکر''، ج۲۲، ص۱۵۸.
Flag Counter