اس کا نشان ہے، مفسرین اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: بعض اسباب سے عمر میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور وہ بھی لوح محفوظ میں لکھی ہے۔(2)
پس قضا میں تغیُّر(تبدیلی)قضا کے مطابق رَوَا ہے، مثلاً:مقدر ہے کہ زید کی عمر سا ۶۰ ٹھ برس کی ہو گی اور جو حج کریگا اَ ۸۰ سی برس زندہ رہے گا۔
تنبیہ:
قال الرضاء:یہ قضا میں تغیُّر نہیں مُقْضٰی بِہ کا تغیر ہے اور مُقْضٰی کی بھی ذات بدلی نہ(کہ) اس کے مُقْضٰی ہونے کی حیثیت اسے اس اعتبار سے جو نظر عامہ عِباد میں ظاہر ہوتا ہے احادیث وکلمات علمائے کرام میں ردّ وتغیُّرِ قضا فرمایا ہے،(3) اس کاــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ترجمہ کنز الایمان: ''اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے۔ ''
(پ۲۲، فاطر: ۱۱)
2 ''روح المعاني''، پ۲۲، فاطر: تحت الآیۃ: ۱۱، الجزء: ۲۲، ص۴۷۹-۴۸۰.
3 مقضٰی بہ سے مراد یہاں وہ شئے ہے جو تقدیر میں لکھی گئی ہو جیسا کہ ابھی مثال گزری کہ ''مقدر ہے کہ زید کی عمر ساٹھ برس کی ہوگی اور اگر حج کرے گا تو اَسّی برس زندہ رہے گا۔'' تو اس مثال میں زید کی عمر مقضی بہ ہے جو کہ ساٹھ سے بدل کر اَسّی تک بڑھا دی جائے گی۔
یہ تقدیر میں تبدیلی نہیں بلکہ جو چیز تقدیر میں مقدر کی گئی ہے اس کی تبدیلی ہے چنانچہ مقضیٰ بدلا یعنی جو چیز مقدر کی گئی تھی وہ بدلی نہ کہ خود تقدیر ہی اپنی حیثیت بدل گئی یعنی عام لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس بندے کے حق میں یہ دوباتیں (۶۰ اور ۸۰)طے شدہ تھیں جو ا س کے فعل وعمل سے متعین ہوگئی۔