کرتی۔'' (1)
دوسری حدیث میں ہے: ''دعا اس چیز سے کہ نازل ہوئی اور اس سے کہ ہَنُوز نازل نہ ہوئی (جو ابھی تک نازل نہ ہوئی) فائدہ بخشتی ہے اور بیشک بَلا نازل ہوتی ہے اور دعا اس کو مل جاتی ہے تو دونوں آپس میں مُدَافَعَت کرتی رہتی (لڑتی رہتی)ہیں'' (2) یعنی بَلا اترنا چاہتی ہے اور دعا اس کو روکتی ہے یہاں تک کہ قیامت تک نہیں اترنے دیتی۔
مگر یہ رَدّ بھی قضا کے موافق ہے جس طرح وجود ہر شئے کا کسی سبب سے مَربُوط (ملا ہوا)ہے اسی طرح ہر چیز کے روکنے اور دفع کرنے کے لیے بھی ایک سبب مقرر ہے، سِپَر (یعنی ڈھال)حَربَہ (جنگی ہتھیار)روکنے کا ایک سبب ہے، اور دعا سببِ دفعِ بَلا،سِپَرلینا قضا کے خلاف نہیں، دعاکیونکر مُنافی ہوسکتی ہے!۔
تحقیق اس مقام کی یہ ہے کہ قضا دو۲ قسم ہے:
مُبْرَم کہ