Brailvi Books

فضائلِ دعا
243 - 322
کرتی۔'' (1)

    دوسری حدیث میں ہے: ''دعا اس چیز سے کہ نازل ہوئی اور اس سے کہ ہَنُوز نازل نہ ہوئی (جو ابھی تک نازل نہ ہوئی) فائدہ بخشتی ہے اور بیشک بَلا نازل ہوتی ہے اور دعا اس کو مل جاتی ہے تو دونوں آپس میں مُدَافَعَت کرتی رہتی (لڑتی رہتی)ہیں'' (2) یعنی بَلا اترنا چاہتی ہے اور دعا اس کو روکتی ہے یہاں تک کہ قیامت تک نہیں اترنے دیتی۔ 

    مگر یہ رَدّ بھی قضا کے موافق ہے جس طرح وجود ہر شئے کا کسی سبب سے مَربُوط (ملا ہوا)ہے اسی طرح ہر چیز کے روکنے اور دفع کرنے کے لیے بھی ایک سبب مقرر ہے، سِپَر (یعنی ڈھال)حَربَہ (جنگی ہتھیار)روکنے کا ایک سبب ہے، اور دعا سببِ دفعِ بَلا،سِپَرلینا قضا کے خلاف نہیں، دعاکیونکر مُنافی ہوسکتی ہے!۔

    تحقیق اس مقام کی یہ ہے کہ قضا دو۲ قسم ہے: 

     مُبْرَم کہ
جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا ھُوَ کَائِنٌ(3)
اس کا بیان ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''سنن الترمذي''، کتاب القدر، باب ما جاء لا یرد القضاء إلا الدعاء، الحدیث: ۲۱۴۶، ج۴ ص۵۵.

و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۲۴۷۶، ج۸، ص۳۳۰.

2 ''المستدرک''، کتاب الدعاء والتکبیر...إلخ، لا یرد القدر إلا الدعاء، الحدیث:۱۸۵۶، ج۲، ص۱۶۲.

3 یعنی جو ہونا ہے اسے لکھ کر قلم سوکھ گیا، مراد یہ کہ اللہ عزوجل کے لکھے میں تبدیلی ممکن نہیں ، جو لکھ دیا گیا وہ ہوکر رہے گا۔ 

''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۸۰۴، ج۱، ص۶۵۹.
Flag Counter