سوال سِوُم(۳): جو مقدر ہے ہوگا، پھر دعا سے کیا فائدہ؟
جواب: دعا سے بَلا رَدّ ہوتی ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
''قضا دعا کے سوا کسی چیز سے رد نہیں ہوتی اور سوا نیکی کے کوئی چیز عمر کو زیادہ نہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1''قَطْعِیَّات'' سے مراد یہاں وہ امور ہیں جن کا نفع یا نقصان یقینی ہے اوران میں دوسرا پہلو نہ پایاجائے مثلاً محبتِ خدا ورسول عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کی طلب اورغضبِ الٰہی وناراضی نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ ، یعنی بعض اموریقینیہ ایسے ہیں کہ جن سے متعلق دعا کرتے وقت استثناء وخیر کی شرط لگانے کی حاجت نہیں کہ ''الٰہی !اگر یہ کام میرے دین ودنیا وانجام میں بہتر ہے تو مجھے اس کی توفیق دے ، ورنہ مجھ کو اس سے بازرکھ اورمیرا دل اس سے پھیر۔''، بعض اموریقینیہ ایسے ہیں کہ جن سے متعلق دعا کرتے وقت استثناء وخیر کی شرط لگانا ہی بہتر ہے جیسا کہ''ماء الشعیر'' والی مثال گزری ۔
2 مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ گُنا بڑھ کر ملتاہے اس کے باوجود آفاقی(یعنی حرم شریف سے باہر رہنے والے )کو نماز کے بجائے زیادہ طواف کرنے کا حکم ہے۔
تفصیل کیلئے ''بہارشریعت ''،ج۱، حصہ ۶، صفحہ ۱۱۱۲، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کا مطالعہ کیجئے ۔
3 یعنی جس چیز پر کسی دوسری چیز کو فضیلت حاصل ہو تو بذات خود پہلی چیز اس دوسری چیز سے زیادہ مفید وبھلی نہیں ہو سکتی۔