دعائے استخارہ میں وارد: ''الٰہی! یہ کام اگر میرے دین ودنیا وانجام میں بہتر ہے تو مجھے اس کی توفیق دے، ورنہ مجھ کو اس سے باز رکھ اور میرا دل اس سے پھیر۔'' (1)
البتہ جس چیز میں مُضَرَّت (نقصان)یقینی ہے اس کی طلب کرنا یا جس کا نفع نقصان معلوم نہیں بغیر شرطِ خیر وصلاح کے مانگنا تفویض کے منافی وبے جا ہے۔
امام غزالی کے شیخ فرماتے ہیں:استثناء اور شرطِ خیر وصلاح قَطْعِیَّات(یقینی چیزوں) میں بھی اَولیٰ کہ کبھی خیر وصلاح مفضول(کم افضل عمل) میں ہوتی ہے، مثلاً: ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور وقت تنگ ہو گیا ہے اور ایک اندھا کنوئیں میں گرا پڑتا ہے، بچانا اس کا اس کے حق میں بہتر ہے اگرچہ نماز فی نفسہٖ افضل ہے، اور اکثر ہوتا ہے کہ افضل کی طلب میں آدمی ہلا ک ہو جاتا ہے اور مفضول بے ضرر ہاتھ آتا ہے جیسے: مَاءُ الشَّعِیْرِ (یعنی جَو کا وہ پانی جو شراب نہ ہو)بعض مریضوں کے حق میں مفید، اور شربت اگرچہ افضل ہے مُضِر۔ پس ایسا مفضول افضل سے اَصْلَح وبہتر ہے۔ تو بندے کو لائق کہ اپنے مالک سے عرض کرے: الٰہی! میری صلاح وبہبود افضل میں رکھ اور اس کی توفیق دے، قطعاً جزماً بِلاشرطِ صلاح افضل کی درخواست نہ کرے کہ کبھی مُضِر ہوتی ہے۔
قال الرضاء:اس کلام سے مقصود سلبِ عموم ہے یعنی سب قَطْعِیَّات ایسے نہیں کہ ضَمِ استثناء وشرطِ خیر سے بے نیاز ہوں، نہ عمومِ سلب کہ سب قطعیات میں اس کی حاجت ہو، محبتِ خدا ورسول جل جلالہ وصلی اللہ علیہ وسلم وبِہِشت ودیدارِ الٰہی وشفاعتِ رسالت پناہی صلی اللہ علیہ وسلم وتوفیقِ طاعت کی طلب، اورکفر وبدعت ودوزخ وغضبِ الٰہی وناراضیئ حضور