Brailvi Books

فضائلِ دعا
240 - 322
    بالجملہ مطلق دعا میں ہر گز کسی مسلمان سے نزاع معقول نہیں اور خود بعد امرِ صریح:(اُدْعُوْنِیْۤ) وفرمان:
 (وَاسْئَلُوا اللہَ مِنْ فَضْلِہٖ)
 (1)گنجائشِ کلام کیا ہے۔(2)
فافھم، واللہ تعالٰی أعلم۔)o
    سوال دُوُم (۲):دعا تَفْوِیض کے مُنَافی(خلاف)ہے، جو شخص اپنا کام کسی کے سپرد کرتا ہے آپ(خود) اس میں دخل نہیں دیتا۔ 

    جواب: تفویض کے یہ معنی کہ بندہ جس کام کے نفع نقصان سے واقف نہ ہو اسے اپنے مولیٰ کو کہ حکیم وکریم وعلیم ہے سِپُردکرے وہ مصلحت اس کی اس سے بہتر جانتا ہے، نہ یہ کہ جو بات قطعاً اس کے حق میں بہتر ہے مانند بِہِشت وایمان ومحبتِ خدا کے، اس کی طلب نہ کرے یا جوبات بالیقین مُضِرّ ہے ، مثل کفر وشرک ومعصیت ودوزخ کے، اس سے پنا ہ نہ چاہے ،بلکہ جس بات کا انجام معلوم نہیں اس کی طلب بھی مع استثناء وشرطِ خیر وصلاح ،منافی تفویض نہیں۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ترجمہ کنزالایمان : ''اوراللہ سے اس کا فضل مانگو۔ ''(پ۵، النسآء: ۳۲)

2 دعا کرنے یا اسکو ترک کرنے کے متعلق جو علما کا اختلاف ہے وہ خاص مواقع کے متعلق ہے ورنہ مطلقاً دعا کے مانگنے میں تو کسی کا بھی اختلاف نہیں اور جن آیات واحادیث میں ترکِ دعا پر غضب الٰہی وغیرہ کی وعیدیں آئی ہیں ان میں مراد وہ لوگ ہیں جو مطلقاً دعا کو ترک کر دیتے ہیں یا معاذ اللہ اپنے آپ کو بارگاہ ایزدی سے بے نیاز سمجھ کر دعا ترک کرتے ہیں اور اسکے حضور تضرع وانکساری سے کتراتے اور پرہیز کرتے ہیں اور یہ تو صریح کفر اور اللہ عزوجل کے دائمی غضب کا باعث ہے۔

3 بلکہ جس بات کا انجام معلوم نہیں یعنی یہ نہیں جانتا کہ فلاں چیز کا سوال میرے حق میں بہتر ہے یا نہیں؟تو اس فلاں چیز کا سوال بھی، استثناء(مثلاً لفظِ ''اگر'')کے ساتھ یعنی:اے میرے مالک! اگرتجھے پسند ہو تو مجھے یہ عطا فرما، اگر میرے حق میں بہتر ہوتو عطا فرما، اسی طرح اگر میرے حق میں مناسب ہوتوعطا فرما مذکورہ تینوں طرح سے دعا مانگنا تفویض کے خلاف نہیں۔
Flag Counter