| فضائلِ دعا |
یوں ائمہ شافعیہ کے نزدیک ہر روز انتالیس۳۹ بار دعا فرض ہوگی کہ شبانہ روز میں سترہ۱۷ رکعتیں فرض ہیں ہر رکعت میں فاتحہ فرض، ہر فاتحہ میں د ۲و بار دعا اور ہر قعدہ اخیرہ میں دُرود فرض ہے۔(1)
اَحادیث سابقہ(2) جن میں ارشاد ہوا کہ ''جو دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر غضب فرمائے''، ترکِ مُطْلَق ہی پر محمول یا معاذ اللہ اپنے کو بارگاہِ عزت عزوجل سے بے نیاز جاننا، اس کے حضور تَضَرُّع وزاری سے پرہیز رکھنا کہ اب صریح کفر وموجبِ غضبِ اَبدی ہے۔ ولہٰذا(اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ)(3)
کے متصل ہی ارشاد ہوا:
( اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِیۡ سَیَدْخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیۡنَ)(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 عند الشوافع درود فرض ہے۔ انظر ''الہدایۃ''، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۱، ص۵۳. و''شرح صحیح مسلم'' للنووي، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد التشہد، ج ۱، ص ۱۷۵. عند الشوافع سورہ فاتحہ پڑھنی فرض ہے۔ انظر ''شرح صحیح مسلم'' للنووي، کتاب الصلاۃ، باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ... إلخ، ج ۱، ص ۱۷۰. 2 وہ حدیثیں کہ فصل دوم میں ادب ۳۰، کے تحت مذکور ہوئیں۔ 3 ترجمہ کنز الایمان: ''مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ '' 4 ''جو لوگ میری عبادت سے تکبّر کرتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہو کر۔''(پ۲۴، المؤمن: ۶۰)، (یہاں عبادت سے مُراد دُعا ہے، انظر فصلِ اوّل ، ص۴۸)