| فضائلِ دعا |
قال الرضاء:یہ جو حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہ،نے ارشاد فرمایا حکمِ اصلی ہے، مگر اس کا مَورِد صرف اولیاء ہیں جن کی نسبت: ((استفتِ قلبک))(1) وارِد۔
عوام مومنین کہ فَحوائے قَلْب وطَغْوائے نَفس واِغوائے دیو میں تمیز نہیں کر سکتے، انکے لیے راہ یہی ہے کہ دعا میں کبھی تقصیر(کمی) نہ کریں کہ فی نفسہٖ عبادت بلکہ مغزِ عبادت ہے ، لہٰذا قرآن وحدیث میں مطلقاً اس کی طرف ترغیب فرمائی کہ احکامِ شرعیّہ میں کثیر غالب ہی پر لحاظ ہوتا ہے۔(2)
ثمّ أقول:محل نزاع اَدعیہ خاصہ، وقتِ حاجاتِ حادثہ ہیں(3)، ورنہ مُطْلَق دعا باجماعِ اُمتِ مرحومہ ہر روز کم از کم بیس بار واجب ہے،(اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾)(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۸۰۲۸، ج۶، ص۲۹۳. 2 حکم وہی ہے جومُصَنِّف علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا یعنی بعض علماء ترکِ دعا مناسب جانتے ہیں اور بعض فوائد کے پیشِ نظر دعا کرنے کو، مگر یہ صرف اولیائے کرام رحمہم اللہ کے لئے ہے جن کے بارے میں ارشاد فرمایا: '' اپنے دل سے فتوی پوچھئے ''، یہ حکم عام مسلمانوں کیلئے نہیں کہ وہ دل کی باتوں، نفس کی چالوں اور شیطانی وسوسوں میں تمیز نہیں کرسکتے لہٰذا ان کے لئے حکم یہی کہ وہ دعا میں کمی نہ کریں کیونکہ دعا نہ صرف عبادت بلکہ عبادت کا مغز ہے قرآن وحدیث میں دعا کی ترغیب مطلقاً اس لئے دی گئی ہے کہ شرعی احکامات میں زیادہ تر غالب کا ہی اعتبار کیا جاتاہے۔ 3 ''اَدْعیہ '' دعا کی جمع ہے ۔ اور دعا مانگنے یا نامانگنے میں علماء کا جو اختلاف گزرا وہ بعض خاص دعاؤں کے متعلق اس وقت ہے کہ جب اچانک کوئی مشکل یا مصیبت آئے اور دعا کی جائے ، ورنہ مطلق دعا میں کوئی اختلاف نہیں ۔ 4 ترجمہ کنز الایمان: ہم کو سیدھا راستہ چلا۔ (الفاتحۃ: ۵)