میں مذکور۔)o (1)
اوربعض علما دعا وسوال بنظر اِن فوائد کے جو سابق مذکور ہوئے بہتر سمجھتے ہیں۔
بعض کہتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ زبان سے دعا کرے اور دل سے خدا کے حکم وقضا پر راضی رہے تاکہ دونوں فائدے ہاتھ آئیں۔
بعض کہتے ہیں :جس بات میں حظِّ نفس کو دخل ہے وہاں سُکُوت وترکِ دعا افضل ہے اور جس میں دین وشرع کی ترقی یا کسی دوسرے مسلمان کا فائدہ ہے اس کا مانگنا مناسب۔(2)
بعض علماء فرماتے ہیں: جس وقت دل دعا کی طرف اشارہ کرے اور اس سے کُشودِ کار نظر آئے (یعنی اپنا مقصود ومطلوب حاصل ہوتا دکھائی دے)دعا بہتر ہے اور جب سکوت کی طرف اشارہ کرے سکوت اَولیٰ، اور یہ قول اَصح اقوال ہے (یعنی یہ قول تمام اقوال سے صحیح تر ہے)۔(3)
اکثر اُمور، خصوصاً مُباحات ومَنْدُوبات میں دل کا فتویٰ اعتبارِ تمام رکھتا ہے اسی واسطے کہتے ہیں: دعا وترک میں ترجیح، وقت پر ظاہر ہوتی ہے۔