Brailvi Books

فضائلِ دعا
233 - 322
فصل دہم مبحث دعا کے متعلق چند نفیس سوال وجواب میں
    سوال اوّل(۱): اپنی عاجزی اور پَرْوَرْدگار تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی رحمت پر نظر کر کے دعا وسوال بہتر ہے یا قضا (تقدیر) پر راضی ہو کر ترک، اَولیٰ ہے؟

    جواب: بعض علماء ترکِ دعا کو اولیٰ جانتے ہیں۔

     امام واسطیؔ فرماتے ہیں: جو خدائے تعالیٰ نے تیرے لیے ٹھہرا دیا وہ اس سے بہتر ہے جو تو مانگتا ہے۔(1) 

    سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والتسلیم نے بَلا کے وقت دعا نہ مانگی، جبرائیل علیہ الصلاۃ والسلام نے کہا: کچھ حاجت ہے؟ فرمایا: ہاں، مگر نہ تم سے، کہا: خدا سے عرض کیجئے، فرمایا:
حسبي ۱؎  من سؤالي علمہ بحالي۔(2)  ؎
خدا واقف کہ حافظ را غرض چیست(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''الرسالۃ القشیریۃ''، باب الدعاء، ص۲۹۶.

؎۱ ملا علی قاری ''شرح فقہ اکبر'' میں لکھتے ہیں :کہ اس کلمہ کی برکت سے جلنے سے محفوظ رہے، سات دن یا چالیس دن آگ میں رہے اور اس وقت سولہ۱۶ برس کے تھے۔ ۱۲ منہ قدس سرہ۔

''شرح الفقہ الأکبر''، الدعاء للمیت ینفع خلافاً للمعتزلۃ، ص۱۳۰.

2 یعنی اس کا میرے حال کو جاننا یہی مجھے کفایت کرتا ہے میرے سوال کرنے سے۔

''تفسیر البغوي''، ج۳، ص۲۱۱.

3 یعنی خدا جانتاہے کہ حافظ کی غرض کیا۔ حافظ سے مراد''حافظ شیرازی'' ہیں۔

4      ع     	خدا تو جانتا ہے حال کیا ہے اس کے بندے کا 

         	نہیں حاجت میرے معروض کی اس رب اَعلم کو
وعلم اللہ حسبي عن سؤالي(4)
Flag Counter