Brailvi Books

فضائلِ دعا
231 - 322
مانگنے والوں کو دوں۔''(1)

    اسی واسطے حضرت سالم بن عبد اللہ نے تمام مُدّت وقوف میں ذکرِ الٰہی پر اقتصار کیا اور تا غروبِ آفتاب(یعنی غروبِ آفتاب تک)
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰـہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ، لَا إِلٰـہَ إِلاَّ اللہُ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ، لَا إِلٰـہَ إِلاَّ اللہُ رَبُّنَا وَرَبُّ آبَائِنَا الْأَوَّلِیْنَ
کہتے رہے۔(2)

    سِوُم(۳): تلاوتِ قرآن مجید۔ 

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب جلیل تَبَارَکَ وَتَعَالٰی سے روایت فرماتے ہیں:
    ((من شغلہ القرآن عن ذکري ومسألتي أعطیتُہ أفضل ما أعطي السائلین وفضل کلام اللہ علی سائر الکلام کفضل اللہ علی خلقہ))۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''شعب الإیمان''، الحدیث:۵۷۲، ج۱، ص۴۱۳.

2 اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کیلئے ہے ساری بادشاہت اور اسی کے واسطے سب خوبیاں ، ساری بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے،اور وہ ہر چیزپر قادرہے ، اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں، اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگرچہ بُرامانیں مشرک، اللہ عزوجل کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں جو ھمارا رب اور ھمارے اگلے باپ داداؤں کا پروردگار ہے۔ 

''شعب الإیمان''، باب في المناسک، فضل الوقوف بعرفات، الحدیث:۴۰۸۰، ج۳، ص۴۶۶، بألفاظ متقاربۃ.
Flag Counter